ہومبریکنگ نیوزسپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کےٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کا آغاز

سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کےٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کا آغاز

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کےٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہوگیا۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔
سماعت کا آغاز ہوا تو صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کا کہنا تھا کہ میں نے تحریری جواب جمع کرادیا ہے، میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نمائندگی کر رہا ہوں۔
وفاقی حکومت نےگزشتہ روز سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق اپنا جواب جمع کرا دیا تھا جس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔31 صفحات پرمشتمل جواب اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کروایا گیا ہے جس میں فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دینے کی استدعابھی کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار ہائی کورٹس سے رجوع کرسکتے ہیں، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ آئین پاکستان سے پہلے سے موجود ہیں، ان دونوں ایکٹ کو آج تک چیلنج نہیں کیا گیا، آرمی اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیے گئے اقدامات قانون کے مطابق درست ہیں، سپریم کورٹ براہ راست اس کیس کو نہ سنے، فوجی عدالتوں کے خلاف کیس فل کورٹ کو سننا چاہیے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہےکہ کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس یحییٰ آفریدی بھی فل کورٹ بنانے کی رائے دے چکے ہیں،9 مئی کو فوجی تنصیبات کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا، 9 مئی کے واقعات میں منصوبہ بندی سے مسلح افواج کو نشانہ بنایا گیا، 9 مئی کو صرف پنجاب میں 62 واقعات ہوئے،کور کمانڈر ہاؤس لاہور اور جی ایچ کیو کو نشانہ بنایا گیا، پی اے ایف میانوالی اور آئی ایس آئی فیصل آباد آفس کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان حملوں میں 2 ارب 53 کروڑ 91لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا، فوجی تنصیبات کو1 ارب 98 کروڑ 29 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور فوجی دفاترپر حملہ براہ راست قومی سلامتی کا معاملہ ہے، غیرملکی طاقتیں پاکستان کی قومی سلامتی اور فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، کلبھوشن جادھو اور شکیل آفریدی کے واقعات اس بات کے ثبوت ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔