ہومدلچسپپاکستان و بھارت کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفان کا نام بپر جوائے کیوں رکھا گیا؟

پاکستان و بھارت کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفان کا نام بپر جوائے کیوں رکھا گیا؟

کراچی:پاکستان و بھارت کے ساحلوں کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفان کا نام بپر جوائے رکھا گیا ہے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان گزشتہ 12 گھنٹوں سے شمال کی جانب بڑھ رہا ہے جو کراچی کے جنوب سے 600کلو میٹر اور ٹھٹھہ کے جنوب سے 580 کلومیٹر دور ہے۔بپر جوائے کے ساتھ چلنے والی ہواں کی رفتار 150 سے 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے اور اس کے آگے بڑھنے کی رفتار 9 سے 10 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ سمندر میں اس کے مرکز میں لہروں کی اونچائی 35 سے 40 فٹ اونچی ہیں۔

یہ طوفان چند روز سے شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر ماہرین اسے صحیح پڑھ رہے ہیں تو اگلے 24 گھنٹے شمال کی طرف بڑھتے رہنے کے بعد یہ اپنی سمت شمال مشرق کی طرف بدلے گا اور ٹھٹھہ، بدین، سجاول اور بھارتی ریاست گجرات اس کی زد میں ہوں گے۔ماہرین موسمیات کی ریڈنگ ہے کہ اس سسٹم سے سندھ میں اچھی بارشیں ہوں گی اور پنجاب میں پری مون سون بارشیں شروع ہوجائیں گی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 14 جون تک سمندری طوفان شمال کی جانب بڑھیگا اور 15 جون کی دوپہرکو طوفان جنوب مشرقی سندھ اور بھارتی گجرات کو عبورکریگا، 15 جون کی صبح تک سمندری طوفان کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان ٹکرا سکتا ہے۔بپر جوائے سال 2023 میں بحیرہ عرب میں بننے والا دوسرا طوفان ہے، پہلا طوفان موچا تھا جو بنگلادیش سے ٹکرایا تھا۔ ابتدائی طور پر بحیرہ عرب میں گزشتہ کئی روز تک قوت پکڑنے کے بعد بالآخر بپر جوائے 6 جون کو سائیکلون میں تبدیل ہوا جس کا نام بپر جوائے رکھا گیا۔

اس سمندری طوفان کا نام بنگلادیش کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے جس کا مطلب آفت ہے۔طوفانوں کے نام ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے جاری حکم نامے کے تحت رکھے جاتے ہیں جس کا مقصد ایک ہی مقام پر بننے والے متعدد طوفانوں میں تفریق کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت چھ ریجنل اسپیشلائزڈ میٹرولوجیکل سینٹرز اور پانچ ریجنل ٹراپیکل اسٹورم وارننگ سینٹرز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں طوفانوں کے نام رکھیں اور ان کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کریں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔