اسلام آباد (سب نیوز)حکومت نے نجی اور سرکاری اراضی پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر لگانے سے متعلق قانون میں ترمیم کا متنازعہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 سینیٹ سے واپس لے لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئینی مدت 90 دن ختم ہونے اور ممکنہ تاخیر سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ تمام فریقین کی تجاویز کی روشنی میں نیا مسودہ پیش کیا جا سکے۔سینیٹ کے اجلاس کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیرِ اطلاعات و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے اس بل کو واپس لینے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔وزارتِ آئی ٹی کے مطابق بل کی منظور شدہ مدت ختم ہونے کے قریب تھی اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جلد متوقع نہیں تھا، اس لیے قانونی عمل کو تیز اور موثر بنانے کے لیے نیا مسودہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں اصل قانون کی روح کو برقرار رکھا جائے گا۔
اس بل کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو سرکاری اور نجی اراضی پر انفراسٹرکچر لگانے کے وسیع اختیارات دیے گئے تھے، جبکہ کسی بھی سرکاری ادارے کو رسائی کی فیس یا کرایہ مانگنے سے روک دیا گیا تھا۔بل کے مطابق اگر 30 دن کے اندر نجی مالک، ہاوسنگ سوسائٹی، کینٹونمنٹ یا ڈائریکٹر ہاوسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے)کی جانب سے کوئی جواب نہ آتا تو اجازت خود بخود منظور شدہ تصور کی جانی تھی۔اس کے علاوہ کام میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی مالک یا ادارے پر 50 ملین روپے تک کا سنگین جرمانہ اور تنازعات کے حل کے لیے 45 دنوں کی حد مقرر کی گئی تھی۔یہ بل سامنے آتے ہی مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل کا شکار ہوا اور نقادوں نے اسے آئین کے آرٹیکل 23 کے تحت نجی ملکیت کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اور ڈیجیٹل رائٹس گروپس نے انتباہ جاری کیا تھا کہ اس قانون کا سہارا لے کر نجی اراضی میں زبردستی داخلہ ممکن ہو جائے گا، جبکہ حکومت کی حلیف پارٹی پی پی پی سمیت دیگر قانون سازوں نے سینیٹ میں اس کی حمایت سے صاف انکار کر دیا تھا۔عوام اور میڈیا کی تشویش پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے مسودے میں نجی اراضی کے لیے مالکان کی پیشگی رضامندی کو لازمی قرار دیا جائے گا۔یہ ترمیم اصل میں 1996 کے قانون میں تبدیلی کے لیے لائی گئی تھی جسے شزا فاطمہ نے 11 جون کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا تھا، تاہم سینیٹ میں اس پر شدید اعتراضات اٹھے۔
پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز کو کینٹونمنٹس، ہاسنگ سوسائٹیوں اور صوبائی حکام کی جانب سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی)حاصل کرنے میں مہینوں تاخیر کا سامنا تھا جو 5 جی سروسز اور فائبر اپٹک نیٹ ورک کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا۔حکومت نے گزشتہ 2 سالوں میں فائبر انٹرنیٹ کنیکشنز کو 2 ملین سے بڑھا کر 5 ملین سے زائد کیا ہے اور آئندہ 3 سالوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے قانونی اور فنی اصلاحات ناگزیر سمجھی جا رہی ہیں۔
عوام اور اپوزیشن کی شدید مخالفت، حکومت نے متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لے لیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
