پشاور(سب نیوز)مشیرخزانہ خیبرپختونخوا حمایت اللہ نے کہا ہے کہ چار ماہ کا بجٹ پیش کیاجائےگا،پورے سال کا بجٹ بھی تیارہے، نئی حکومت نہ آنے کی صورت میں بجٹ کا مسئلہ نہیں ہوگا،
چار ماہ کے بجٹ کا حجم 550 سے600 ارب روپے متوقع ہے،
تنخواہوں اور پنشن میں 15 سے20 فیصد اضافہ پرغور ہے ،بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا،نیا ترقیاتی منصوبہ شامل نہیں ہوگا،صوبائی اے ڈی پی کا حجم 130 ارب روپے ہوگا۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے ضم قبائلی اضلاع کیلئےٹیکسوں میں چھوٹ کو 2 سال تک توسیع دینے کافیصلہ کیا ہے ،
صوبے کےزیرانتظام سابقہ قبائلی علاقے ملاکنڈ ڈویژن کو بھی 2 سال تک ٹیکسوں میں چھوٹ ہوگی،
صوبہ کو اگلے مالی سال کے دوران مرکز سے876 ارب روپے ملنےکا امکان ہے،
دہشتگردی کیخلاف جنگ کی مد میں فنڈز فراہمی بھی برقرار رہے گی،
مشیر خزانہ حمایت اللہ کا کہنا تھا کہ صوبہ کو اپنے وسائل سے 85 ارب روپے کی آمدنی کا امکان ہے،
بجٹ کا 30 فیصد حصہ تعلیم،20 فیصد صحت ،20 فیصد پنشن وقرضوں کی ادائیگی پرخرچ ہوتا ہے، مشیر خزانہ
امن وامان پر بجٹ کا 10 فیصد حصہ خرچ کیاجاتا ہے،
بجٹ کا بقایا20 فیصد حصہ دیگر تمام محکموں پر خرچ کیاجاتا ہے،
کے پی حکومت کا ضم قبائلی علاقوں کومزید 2 سال ٹیکس چھوٹ دینے کافیصلہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
