اسلام آباد(سب نیوز )مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کو اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ زیادہ کر تی ہے،حکومت نے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود معمولی کمی کرکے خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے اور اس کا کریڈت ایسے لیا جا رہا ہے جیسے بہت بڑا معارکہ سر انجام دیدیا ہو،حکومت نے ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی ہے اور دوسرے جانب فیول ایڈ جسمنٹ کے نام پر بجلی کی فی یونٹ میں 1 اعشاریہ61روپے اضافہ کرکے صارفین پر بجلیاں گرا دی ہیں ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم از کم سو روپے کمی کی جائے اور بجلی کی فی یونٹ میں اضافہ کو فوری واپس لیا جائے ۔
جمعرات کو جاری بیان کے مطابق محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ بجٹ کی آمد آمد ہے اور تاحال تاجروں اور عوام کیلئے بجٹ میں کوئی اچھی خبر سامنے نہیں آئی شنید ہے کہ بجٹ میںمزید ٹیکسز عائد کرکے عوام اور تاجروں کا جینا محال کرنے کی پلاننگ کی گئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت عوام کو بجٹ میں بڑا ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کے بجائے کم از کم سو روپے فی لیٹر کمی کو یقینی بنائے اور نیپرا کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ایڈجسٹمنٹ کے نام سے کیے جانے والے اضافے کو واپس لیا جائے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب بھی آئی ایم ایف کی جانب دیکھ رہی ہے اور آئی ایم ایف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور ایسے بیان دئیے جا رہے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں ۔حکومت تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے بجٹ بنائے اور خاص طور پر تاجروں کا ان پٹ لیا جائے تاکہ ملک میں کاروبار بڑھے اور صنعتیں ترقی کریں اور ایسا ٹیکس نظام لاگو کیا جائے تو ہر ایک کیلئے قابل قبول ہو۔

