ہومکالم وبلاگزایک جیالے کا بھٹو کے نام خط

ایک جیالے کا بھٹو کے نام خط

علی اسجد
السلام علیکم!اس سال بھی 04اپریل کا دن آیا اور گزر گیا۔ مگر اس سال بھٹو صاحب کو خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔محترم ذوالفقار علی بھٹوصاحب!امید ہے عالم باقی میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہوگا۔قائد اعظم اور لیاقت علی خان بھی خیریت سے ہوں گے۔ فیض احمد فیض اپنا سگار جلا کر ادھر بھی محفل مشاعرہ لگاتے ہوں گے۔ جالب وہاں بھی غربت کے نوحے لکھتا ہو گا۔ مگر بھٹو صاحب!عالم فانی میں کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔آج کل آپ کی لخت جگر کے فرزند بلاول بھٹو کے ہاتھ آپ کی پارٹی کی کمان ہے۔بھٹو صاحب!آپ کی پارٹی میں اب موروثیت کی چھاپ لگ چکی ہے۔ مانا کہ بینظیر نے جدوجہد کی، صعوبتیں برداشت کیں اور یہاں تک کہ اپنے مخالفوں سے کردار کشی کے نشتر سہے مگر بلاول نے تو کوئی جدوجہد نہیں کی۔ جب رضاربانی جیسے سینئر سیاستدان موجود ہیں تو بلاول ہی کے ہاتھ کمان کیوں۔
مرشد!آپ کے نظریے سے دوری کی وجہ سے پیپلز پارٹی پنجاب میں ختم ہو گئی۔ یہ وہی پیپلز پارٹی تھی جس کا قیام پنجاب کے شہر لاہور میں مبشرحسن صاحب کے گھر وجود میں آیا۔ خیر اب تو مبشر صاحب بھی ہمیں اس دنیا میں اکیلے چھوڑ کے آپ کے دستر خوان کے مہمان بن چکے۔یہ وہی پنجاب ہے جہاں سے آپ کی میت گئی تو مسعود منور جیسے کامریڈ خون کے آنسو روئے۔اس پنجاب میں آج پیپلز پارٹی اپنی شناخت کھو بیٹھی ہے۔ یہ وہ پنجاب تھا جس نے 1986 میں بینظیر کا استقبال نہایت گرمجوشی سے کیا۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کی پارٹی کے خلاف آئی جے آئی بنی مگر وہاں اپنے ساتھ موجود قائد اعظم سے پوچھیے گا یہاں کیسے ایمبولینس جام ہو جاتی ہیں۔ لیاقت علی خان سے پو چھیے گا کہ یہاں یعنی کہ(مملکت خداداد میں)کیسے گولی آپ کا مقدر بنتی ہے۔ فیض سے پوچھیے گا عقوبت خانے میں سلاسل کی جھنکار سن کر قلب مضطرب میں کیسے شاعری کا روگ پھوٹتا ہے۔بھٹو صاحب!مانا کہ آپ کو سولی پر لٹکایا گیا مگر اس ملک میں یہ ریت کوئی نئی نہیں تھی۔ بھٹو صاحب!آپ کی پارٹی کے ساتھ ہم لوگوں کا رومانس جڑا ہوا ہے۔ہماری یادوں کی برکھا آج بھی اشکوں کی صورت میں ہمارے رخساروں پر ٹپکتی ہے مگر حیف!ذاتی منفعت کی آڑ میں آپ کی پارٹی کا سودا کیا جارہاہے۔ میری آپ سے التماس ہے کہ جب اب عالم باقی میں محفل یاراں سجے تو بزرگ باچا خان سے مشورہ کر کے اپنی پارٹی کو صلاح ضرور دیجیے گا۔ کیوں کہ سیاست میں باچا خان کا قد کافی بڑا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ان رفقا سے ضرور دریافت کیجیے گا کہ انہوں نے آپ کی بیٹی کے خلاف آپ کے دشمنوں سے ہاتھ کیوں ملا لیا وہ بھی عالم بالا کی کسی ویران روش میں بے سدھ پڑے ہوں گے۔امید ہے آپ ادھر بھی کلین شیو ہی ہوگے کیوں کہ بوقت رخصتی آپ نے کہا تھا کہ میں مولوی کی طرح نہیں مرنا چاہتا۔ شاہنواز اور مرتضی اب بھی آپ سے سیاست کے گر سیکھ رہے ہوں گے۔ بینظیر آپ سے شجاعت کا درس روزانہ لیتی ہوں گی۔ آخر میں آپ سے درخواست ہے کہ ایک خط ضرور لکھ دیجیے گا جس میں اپنے خاندان اور پارٹی کو اصول اور نظریے کی سیاست کرنے کی تلقین کیجیے گا۔
والسلام
آپ کا جیالا

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔