پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو قرض کے مسائل سے نکلنا ہے تو اس کے لیے سخت ترین اصلاحات کرنا ہوں گی۔فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم جو بھی کرتے ہیں، جب ہم آگے دیکھتے ہیں، قرض بڑھ رہا ہے، ہماری معیشت آہستہ آہستہ سکڑتی جا رہی ہے، میری پارٹی کے نقطہ نظر سے ہم نے مسائل سے نکلنے کے لیے سوچنا شروع کر دیا ہے، ملک بہت بری طرح پھنس چکا ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان اپنے بدترین معاشی بحران میں سے گزر رہا ہے، تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ملک، جو تقریبا 7 بلین ڈالر کے آئی ایم ایف قرضہ پروگرام کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے، جب کہ اس کے غیر ملکی ذخائر 4.2 بلین ڈالر تک گر چکے ہیں، جو ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہے۔
انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ حکومت کو قرض لینے کے پالیسی سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، قرض لینے کی پالیسی نے ترقی پذیر معیشتوں کو روک رکھا ہے لیکن اگر پی ٹی آئی اقتدار میں واپس آتی ہے تو سخت اصلاحات کو ترجیح دیں گے۔ ہمیں ملک کو معاشی مسائل سے نکالنے کیلئے مکمل سرجری کرنی ہے۔پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ میری پارٹی کی ٹیم حکمت عملی تیار کر رہی ہے اگر وہ پاکستان میں اقتدار میں واپس آتے ہیں تو مسائل سے نکلنے کیلئے مکمل اصلاحات کریں گے۔ ہم اپنے ماہرین اقتصادیات کے ساتھ بیٹھے ہیں کہ کس طرح ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جائے جس کے ساتھ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ بیٹھ سکیں اور اپنے قرضوں کی ادائیگی کے قابل ہونے کا ایک قابل عمل طریقہ فراہم کر سکیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق عمران خان کو قانونی چیلنجوں کا سامنا ہے، انہیں سزا ہونے کی صورت میں انتخابات میں لڑنے سے روکا جا سکتا ہے، ان پر یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ انھوں نے بطور وزیرِ اعظم کام کرتے ہوئے حاصل کیے گئے تحائف کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے، مہم گروپ ڈیبٹ جسٹس نے متنبہ کیا ہے کہ غریب ممالک کو 25 سالوں میں قرض کی خدمت کے لیے سب سے زیادہ مسائل کا کا سامنا ہے۔ غیر ملکی قرضوں پر پاکستان کی طے شدہ ادائیگیاں 2023 میں حکومتی محصولات کے 47 فیصد کے برابر ہو جائینگی۔
اس موضوع پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کیلئے مسئلہ نہیں ہے، ایک بار جب کوئی بھی ملک ڈالر میں قرض لینا شروع کر دیتا ہے تو بدلے میں ہمیں قرض ڈالر میں ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کی ڈالر کی آمدنی میں بہتری یا اضافہ نہیں ہوتا ہے، تو آپ اپنے قرضوں کی ادائیگی کیسے کریں گے؟ ملک میں ڈالر لانے کیلئے برآمدات بڑھانی ہونگی، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم قرض کی ادائیگی کیسے قرض کر پائیں گے چاہے یہ قرض چین کے ہوں یا، پیرس کلب کے ہوں یا دیگر ممالک کے۔
عمران خان جو، 2018 سے وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے تھے تاہم گزشتہ سال عدم اعتماد کے ووٹ میں برطرف ہو گئے، نے کہا کہ ان کے منصوبوں میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانا شامل ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان کے بہت سے معاشی مسائل میرے عہدے سنبھالنے کے دوران شروع ہوئے تھے لیکن حالیہ مہینوں میں ڈرامائی طور پر بگڑ گئے ہیں۔ مارچ میں مہنگائی 35 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اور کم ہوتے غیر ملکی ذخائر نے ادویات سمیت ضروری اشیا کی قلت پیدا کردی ہے۔
اگرچہ خان نے اقتدار میں رہتے ہوئے اصلاحات کی طرف کچھ اقدامات کیے، لیکن بہت سے لوگوں نے کہا کہ ان کا معاشی ایجنڈا بدانتظامی، غلط فیصلہ سازی اور وبائی امراض کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔ عمران خان، جنہوں نے ایک بار کہا تھا وہ پیسے کے لیے سپر پاور سے بھیک مانگنے کے بجائے مر جائیں گے، 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدے پر اتفاق کیا، صرف اس پروگرام کے لیے جب ان کی حکومت کی جانب سے توانائی کی سبسڈی کو کم کرنے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
عمران خان کے سخت حریف وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ تلخ موقف میں مصروف ہیں، جن کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ اصلاحاتی منصوبے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف کا استدلال ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سبسڈی ہٹانے جیسے اقدامات ضروری ہیں، پی ڈی ایم سرکار کو خدشہ ہے ان سے غریبوں کو نقصان پہنچے گا اور انتخابات سے قبل عمران خان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا۔
