توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی سماعت میں شروع ہوئی، تاہم پی ٹی آئی چیئرمین تاحال جوڈیشل کمپلیکس نہیں پہنچ سکے۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ وہ جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پر موجود ہیں، جس پر جج نے سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے کا انتظار کرلیتے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد مجھے گرفتار کرنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور کی مقامی عدالت نے توشہ خان کیس میں 18 مارچ کو طلب کر رکھا ہے، جس کیلئے سابق وزیراعظم لاہور سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔تازہ اطلاعات کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس میں ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کے سامنے توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کا آغاز ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان تاحال عدالت میں نہیں پہنچے، عدالتی وقت 4 بجے ختم ہوچکا ہے، عدالت نے انہیں وقت ختم ہونے سے قبل پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی چیئرمین جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پر موجود ہیں۔
عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا، جج نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کو کمرہ عدالت پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ان کے آنے کا انتظار کرلیتے ہیں۔ جسٹس ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ کوئی آنا چاہ رہا تو کیوں رکاوٹ کھڑی کی جا رہی ہے؟، یہ نہیں ہوگا کسی کو روک کر کہا جائے عدالتی وقت ختم ہوگیا، ایسا ہے تو پھر میں بھی ادھر ہی بیٹھا ہوں۔
عمران خان کے اسلام آباد پہنچنے کے موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان کئی مقامات پر جمع ہوگئے، سرینگر ہائی وے پر پولیس اور سیاسی جماعت کے کارکنوں میں تصادم ہوگیا، پولیس نے مشتعل کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی جبکہ کارکنان کی جانب سے ان پر پتھرا کیا گیا۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ سے اسلام آباد جانے کیلئے نکلے تو اس موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی، کچھ کارکنوں نے ڈنڈے بھی اٹھا رکھے تھے، پولیس کی نفری کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کیلئے لاہور سے براستہ موٹر وے اسلام آباد پہنچیں گے، ان کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی، اسلم اقبال، وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید بھی ہوں گے۔
