وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ اور سالانہ اعدادوشمار جاری کر دیے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2022 میں مہنگائی مزید بڑھ کر ساڑھے 24 فیصد تک جا پہنچی ہے جو وزارت خزانہ کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
وزارت خزانہ نے شرح 21 سے 23 فیصد رہنےکا تخمینہ لگایا تھا ۔ مگرسال 2022 کےآخری مہینےمہنگائی 0.50 اضافے کے ساتھ 24.5 فیصد ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے دوران خوراک 33 فیصد مہنگی ہوئی، ٹرانسپورٹ کرائے 39 فیصد بڑھے۔ موٹر فیول 49 فیصد ، تعمیراتی سامان 31 فیصد ، صحت ساڑھے 13 فیصد ، تعلیم 11 فیصد ، کپڑے اور جوتے 17 فیصد مہنگے ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر میں گندم ساڑھے 9 فیصد ، آٹا 3.66 فیصد ، چاول 6 فیصد اور چینی 3.12 فیصد مہنگی ہوئی ، پھلوں کی قیمتیں 13.36 فیصد ، پیاز اور انڈے 10 فیصد ، خشک میوہ جات 9 فیصد اور چکن کے نرخ ساڑھے 5 فیصد بڑھے۔
دودھ اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ٹماٹر 54 فیصد ، آلو 21 فیصد اور سبزیاں 25 فیصد سستی ہوئیں ۔ دالوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔
ادارہ شماریات نے بتایا ہے کہ گذشتہ سال پیاز سب سے زیادہ 414 فیصد مہنگے ہوئے۔ گندم کے دام 57 فیصد، آٹا 41 فیصد ، کوکنگ آئل 32 فیصد، گھی 30 فیصد اور چائے کی قیمت 63 فیصد بڑھی۔ انڈوں کےنرخ میں 54 فیصد، دال چنا 53 فیصد اور چکن کی قیمت میں 44 فیصد تک اضافہ ہوا۔
