یاسین (فضل احمد) غذر کے علاقے یاسین سلطان آباد سے تعلق رکھنے والے جنگ آزادی کے غازی اور مجاہد یاداور خان 116 سال کی طویل عمر گزارنے کے بعد اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے آپ کو یاسین میں سب سے زیادہ ضعیف العمر ہونے کا بھی اعزاز ہے۔
مرحوم یاداور خان نے1947 اور48 کے جنگ آزادی میں ایک نڈر سپاہی کے طور پر حصہ لیا اور بہادری کے جوہر دیکھائے۔ اس وقت کی تاریخ کے مطابق مرحوم جیسے اور بھی بہادر سپاہی تھے جنہوں نے کئی دن بھوکے رہ کر انگریزوں اور ڈوگروں کے ساتھ لاٹھی اور کلہاڑیوں سے مقابلہ کیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا جنگ آزادی کے اس بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے بعد میں مرحوم یاداور خان کو تمغہ خدمت اور تمغہ قائد اعظم سے نوازا جوکہ اس وقت کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑی عسکری اعزاز تھے۔ دوران جنگ مرحوم بطور کمان جنگی قیدیوں کےسپہ سالار تھے انہیں تربیت بھی فراہم کیا کرتے تھے۔ مرحوم یاداور خان پہلے کواٹرماسٹر بھی رہ چکے ہیں جنہوں نےدراس اور لداخ کے محازوں پر دشمن کا دلیرانہ مقابلہ کیا۔
مرحوم یاداور خان کے عسکری خدمات کے بعد سماجی خدمات میں بھی بڑا نام تھا۔ آپ اسماعیلی بوائے اسکاؤٹ کے کمان بھی رہ چکے ہیں اور انہیں تربیت فراہم کرتے تھے۔ سماجی مسائل کو سمجھنےاور حل کرنے میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔ مرحوم یاسین سلطان آباد اور ٹونگے(بیر گہے) قوم سےتعلق رکھتے تھے ۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑا ۔
افسوس اس بات کی ہے کہ جنگ آزادی کے اس عظیم سپاہی کو زندگی میں حکومت پاکستان نے کسی موقع پر بھی حوصلہ افزائی نہیں کی ایسے عظیم لوگ عشروں میں پیدا ہوتے ہیں ہمیں وقت کےساتھ قدر کرنی چاہیے۔
