اسلام آباد(آئی پی ایس)سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے مسلم لیگ (ن) کے تمام پارٹی ورکروں اور رہنماؤں کو ہدایات جاری کر دیں ہیں کہ مخالف سیاسی شخصیات اور سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر کھل کر تعمیری تنقید کریں لیکن کسی کی ذات پر بات ہر گز نہ کریں کیونکہ ہماری سیاسی تربیت میں یہ عنصر شامل نہیں مخالفین اگر پالیسیوں پر تنقید کے جواب میں دلیل سے جواب دینے کی بجائے ذاتیات پر اتر آتے ہیں تو یہ ان کی تربیت ہے ہم نے اپنی سیاسی تربیت ۔
علاقے کی روایات تہذیب و تمدن اور باہمی احترام کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھنا ہے اس لئے اس بات کو زہن نشین کر لی جائے کہ مسلم لیگ (ن) ایک تربیت یافتہ سیاسی رواداری کی حامل جماعت ہے ہمارا ایک سیاسی کلچر ہے تحریک انصاف اور بالخصوص عمران خان کے فتنے کی طرح ہم نے سیاست میں شائستگی و رواداری کا دامں نہیں چھوڑنا ہے۔
حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کی سلیکٹیڈ حکومت کی ناقص پالیسیوں نااہلیوں اور مجرمانہ غفلت پر دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں تو سلیکٹیڈ حکومت دلیل سے جواب دینے یا اپنی اصلاح کرنے کی بجائے اپنے وزرا کو ٹاسک دیتی ہے کہ عمران خان کی ڈی چوک کی تربیت کے مطابق مخالفین کو برے القابات اور پگڑیاں اچھالی جائیں ہم اینٹ کا جواب پھتر سے دینے کا ہنر رکھتے ہیں لیکن ہماری سیاسی تربیت میں یہ بات شامل نہیں کہ سیاسی مخالفین کی بکواس کے جواب میں ہم بھی وہی زبان استعمال کر کے تحریک انصاف کی طرح سیاست کو سیاسی روایات سے نکال کرذاتیات تک لائیں اور معاشرے میں طوفان بد تمیزی کو رواج دیں بد قسمتی سے سیاست جیسے مقدس شعبے کو عمران خان نے اپنے اقتدار کے لئے اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رھا ہے.
عمران خان نے گالی کلچر کو اتنا عام کر دیا ہے کہ اب اس کے فالور سیاسی تنقید کا جواب سیاسی انداز میں دینے کے بجائے گالم گلوچ کا طوفان بریا کرتے ہیں فتنہ خان کے فالوورز کا دلیل سے دور کا بھی واسطہ نہیں انہیں ان کے لیڈر نے گالی سکھائی ہے جب کہ ہمارے لیڈر نے ہمیں رواداری اور شائستگی سکھائی ہے اس لئے مسلم لیگ ن کے تمام رہنما اور کارکن اپنی سیاسی تربیت کو ملحوظ خاطر رکھیں
