اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما کنول شوزب نےپی ٹی آئی کی بانی رکن فوزیہ قصوری کی گفتگو پر اپنے ردعمل میں کہا کہ فوزیہ قصوری نے ایک ایجنڈے پر مبنی پروگرام میں حقائق سے منافی گفتگو کی،عمران خان نے فوزیہ قصوری کو ایک پہچان دی مگر انہوں نے احسان فراموشی اختیار کی،فوزیہ قصوری صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے تحریک انصاف میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ فوزیہ قصوری نے ویمن ونگ کو کبھی فعال نہیں بنایا،نہ ہی کوئی خاطر خواہ ایونٹس منعقد کروائے،
آپکی پریس کانفرنسز اور تمام پروٹوکولز ہم جیسے ورکرز اپنی جیب سے خرچ کر کے یقینی بناتے رہے،
فوزیہ قصوری کو ٹی وی ٹاک شوز کا سکرپٹ بھی ہم جیسے لوگ لکھ کر دیتے تھے اور آج وہ معاشی تجزیہ کر رہی ہیں۔
کنول شوزب نے کہا کہ 2013 میں ریزرو سیٹ لینے کے لئے آپ بیتاب تھیں اور مفاد نہ پورا ہونے پر آپ نے راہ فرار اختیار کر لی،
فوزیہ قصوری نے کبھی پارٹی کے کسی تنظیمی معاملات کو نہیں مانا،اگر فوزیہ قصوری عمران خان کا نام لے کر فندریزنگ نہ کرتیں تو انکو کوئی بھی سنجیدگی سے نہ لیتا،فوزیہ قصوری نے پاکستان کی عوام کو بےوقوف بنایا اور ہمیشہ اپنا مفاد عزیز کیا۔انہوں نے کہا کہ مہربانی کر کے آپ عمران خان کے خلاف زہر نہ اگلیں،ورنہ آپ کی رہی سہی عزت بھی ختم ہو جائے گی،انہوں نے کہا کہ فوزیہ قصوری کے بیٹے کو آئی کے فاونڈیشن سے جب ہٹایا گیا تب سے یہ باغی ہو گئیں تھیں،عوام تحریک انصاف کو عمران خان کے نظریے پر دیوانہ وار فنڈز دیتی ہے،جب سے فوزیہ قصوری گئیں ہیں تحریک انصاف میں خواتین کی نمائندگی بڑھ گئی ہے۔کنول شوزب نے کہا کہ اگر آپ نے یہ ڈرامے بازیاں بند نہ کیں تو ہم بھی آپ کی تمام بلیک میلنک کی داستانیں عیاں کر دیں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی بانی رکن فوزیہ قصوری نے عمران خان پر فارن فنڈنگ کے حوالے سے تنقید کی ہے ۔
سوشل میڈیا پر فوزیہ قصوری کا نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کا ایک کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نے عمران خان سے ٹورنٹو کی تقریب میں جمع 3 لاکھ ڈالر سے متعلق سوال کیا۔
فوزیہ قصوری کا کہنا تھا کہ ٹورنٹو میں ہونے والی ایک تقریب میں عمران خان اور میں موجود تھے، اس تقریب میں خان صاحب نے خود کہا تھا کہ 3 لاکھ ڈالرز جمع ہوئے لیکن اس کے بعد سال بھر تک پتا نہیں چلا کہ وہ 3 لاکھ ڈالر کہاں گئے؟ ہم ای میلز پر پوچھتے رہے کہ وہ ڈالر پہنچے یا نہیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
فوزیہ قصوری نے فارن فنڈنگ پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے متعلق برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اکاؤنٹس عمران خان کے نام پر کھلے ہیں، ان کے نام سے پیسے ڈپازٹ ہورہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران خان کو نہیں پتا؟ پہلی بات خان صاحب بہت غلط بیانی کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی بانی رکن کا کہنا تھا ہوسکتا ہے کہ میرے اس بیان کو لوگ جھوٹا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میں خان صاحب کے ساتھ کئی عرصے کام کرچکی ہوں لہٰذا ان کی عزت کرتی ہوں مگر عمران خان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے کیوں کہ ایک حد تک جھوٹ چلتا ہے اس کے بعد اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ سب واضح ہوجاتا ہے۔
فوزیہ قصوری کا کہنا تھا اس وقت اندھا دھند پیسا آرہا تھا اور ایسے ایسے لوگوں سے آیا جن کو ہم جانتے بھی نہیں تھے لیکن خان صاحب جانتے تھے، عمران خان کی ابراج گروپ اور عارف نقوی کے ساتھ ڈیلنگ تھی اور اب یہ کہہ دینا کہ وہ کیوں کہ مسلمان ہے اس لیے اس کے خلاف ایسا سازش کی جارہی ہے یہ ایک بیوقوفانہ بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلی دفعہ ابراج گروپ اور عارف نقوی کے خلاف جو تحقیقات شروع ہوئیں وہ یو اے ای سے شروع ہوئیں، عارف نقوی نے 300 ملین ڈالرز کے چیک لکھے تھے جو باؤنس ہوگئے تھے، عارف نقوی نے امپیکٹ انویسمنٹ کے نام سے لوگوں سے پیسے بٹورے جسے انہوں نے لگژری سفر، لندن میں جائیداد خریدنے اور اپنے دوستوں کو عطیہ کرنے میں خرچ کیے، ان دوستوں میں عمران خان سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھاکہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لی۔
فوزیہ قصوری نے ایک ایجنڈے پر مبنی پروگرام میں حقائق سے منافی گفتگو کی،کنول شوزب
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
