پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )پشاور ہائیکورٹ میں چترال روڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،ممبر این ایچ اے،چیف پلاننگ کمشنر، اے اے جی سید سکندر حیات شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔چیف پلاننگ کمشنر نے موقف اپنایا کہ ہم نے این ایچ اے کو فنڈز دیئے ہیں لیکن ابھی تک انھوں نے کچھ کام نہیں کیا،عدالت نے این ایچ اے کی کارگردگی پر برہمی کا اظہار کیا ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیو نہ ہم ایف آئی اے سے اس کی انکوائری کا حکم دیں۔کیو نہ ان کے خلاف ایف آئی آر اندارج کا حکم دیں۔ عدالت نے کہا کہ این ایچ اے کی کارگردگی صفر ہے،عدالت نے 21 جون تک جواب طلب کرلیا۔چیف پلاننگ کمشنر نے کہا کہ کیلاش روڈ پر اگلے مالی سال میں کام شروع ہوجائے گا۔ کیلاش روڈ کے لئے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
