ہومپاکستانن لیگ نے عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کس کے کہنے پر جمع کرائی،اہم انکشاف

ن لیگ نے عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کس کے کہنے پر جمع کرائی،اہم انکشاف

رہنما مسلم لیگ ن رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ق کے تین ووٹ ہمارے ساتھ ہیں اور عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد پرویز الہی کے کہنے پر جمع کرائی تھی۔

رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو پی ٹی آئی سے ناراض تھے وہ پچھلے دو سال سے ناراض ہیں، یہ خبر غلط ہے کہ منحرف ارکان کو نوٹوں کی بوریاں دی گئی ہیں، ہم نے منحرف اراکین کے بغیر نمبرز پورے کیے ہیں، متحدہ اپوزیشن نے ان کے علاوہ بھی 172 ووٹ پورے کرلیے ہیں، انہیں ساتھ ملائیں تو گنتی 191 سے اوپر چلی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پی ٹی آئی کے ناراض لوگوں کی شاید ضرورت ہی نہ پڑے، اپوزیشن کے 161 ووٹ ہیں، جام کریم، علی وزیر اور اسلم بھوتانی کا ایک ایک ووٹ ملالیں، طارق بشیر سمیت مسلم لیگ ق کے تین ووٹ ہمارے ساتھ ہیں، بی اے پی کے 4 ووٹ بھی ہمارے ساتھ ہیں، اس طرح ہمارے پاس 172 ووٹ پورے ہوگئے۔
رانا ثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین میں بھی 5 ایسے ہیں جو آزاد لڑ کر آئے ہیں، ان کے بارے میں عمران خان نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرے ووٹ پر ایوان میں آئے ہیں، منحرف اراکین میں ایسے ہیں جو کہتے ہیں 1 یا 2 ووٹ کی ضرورت پڑی تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری دو ملاقاتیں اہم تھیں جس پر ق لیگ کا ووٹ ہمیں ملے گا، مونس الہی آخری ملاقات میں موجود تھے، ان سے کہا کہ وزارت اعلی کے مطالبے سے نیچے آجائیں، مونس نے کہا کہ آپ وزرات اعلی دیں ورنہ ہم خاموش ہیں، پھر ہم نے قیادت سے بات چیت کے بعد انہیں ایک پیش کش کی جسے ق لیگ نے تسلیم کرلیا۔

چوہدری صاحب نے ہم سے کہا کہ اس بات کا پتہ چلتے ہی حکومت اسمبلی توڑ دے گی لہذا آپ صبح ہی عثمان بزدار کیخلاف عدم اعتماد جمع کرادیں، ان کے کہنے پر ہی پنجاب میں عدم اعتماد جمع کروائی گئی، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ق لیگ حکومت سے مل گئی، چوہدری صاحبان کی سیاست میں یہ پہلا واقعہ ہے جو مونس الہی کی وجہ سے ہوا ہے، ورنہ چوہدریوں نے کبھی ایسے فیصلے نہیں کیے، لیکن میں واضح کردوں کہ چوہدری پرویز الہی کو پی ٹی آئی وزیر اعلی نہیں بنا سکتی کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس اب پنجاب میں ووٹ نہیں رہا، وہاں علیم خان گروپ ہے، اس کے پاس 30 سے 40 لوگ ہیں، جو عمران خان کے امیدوار کے خلاف ووٹ دیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔