اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم عمران خان سے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔ ذرائع کے مطابق ارکان قومی اسمبلی نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار، عثمان بزدار بارے گلے شکوے کئے ،تحریک انصاف کے کچھ ارکان وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کارکردگی پر نالاں دکھائی دیے ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات میں عثمان بزدار بارے تحفظات کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ صوبے میں بیڈ گوررننس سے حکومت کو پریشانی کا سامنا ہے ۔وزیراعظم نے کہا پنجاب پر گہری نظر ہے، سب کچھ علم میں ہے،ارکان نے یقین دہانی کرا ئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لئے ہم آپ کا ڈٹ کر ساتھ دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کو بدترین شکست سے دیں گے۔
ذرائع کے مطابق اکثریتی اراکین کی حمایت کے باوجود بعض ارکان کے تحفظات تاحال برقرار ہیں۔حکومتی شخصیات کے ارکان اسمبلی سے رابطوں کی بھی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔بعض ارکان اپنے حلقوں میں غیر ضروری مداخلت پر نالاں ہیں،ذرائع کے مطابق نور عالم خان کو حکومت کے خلاف مسلسل بیان بازی مہنگی پڑی، نور عالم خان حکومتی فنڈز صرف صوابی میں خرچ کرنے پر نالاں تھے، نور عالم خان اپنے حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز مانگتے رہے جو نہیں ملے، پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس اور پی اے سی سے نکالنا بڑی ناراضگی کی وجہ بنا،
ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کے حلقے میں حکومتی شخصیات کی مداخلت پر نالاں ہیں،وزیراعظم کو شکایت کے باوجود حلقے میں مداخلت نہیں رکی، ذرائع کے مطابق غلام بی بی بھروانا کو پہلے روز سے ہی شک کے دائرے میں رکھا گیا، بعض اراکین کی جانب سے پارٹی ارکان کو عزت نہ ملنے پر بھی ناراضگی ہے،عامر لیاقت حسین بھی کوئی حکومتی عہدہ نہ ملنے پر مایوس ہوئے۔
