ہومکالم وبلاگزبلاگزصحافتی صفیں برابر کرنے کا وقت

صحافتی صفیں برابر کرنے کا وقت

تحریر:عفت رؤف
صحافت جیسا مقدس پیشہ حقائق بین تاریخ رقم طراز کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے لیکن پاکستان میں صحافی برادری کی زبوں حالی قابلِ مذمت ہے صحافت مقید اور صحافی سہولیات کی فراہمی سے “آزاد “خیال کیا جاتا ہے وہ مقفل لب کے ساتھ بکاؤ مال سمجھا جاتا ہے قلم بیچ دے ،قصیدے لکھے،کورنش بجا لائے تو محفوظ اور راست گو ہو جائے تو عدالتی کٹہرے میں تو کبھی ملازمت سے برخاست،کہیں جسمانی تشدد کا نشانہ تو کہیں اندھے قتل کا شکار اور غربت سب کا اجتماعی مسئلہ بن کرسر پرمنڈلاتی ہے
پاکستان میں صحافیوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں معروف اخبارات کے صحافی عرصہ دراز تک تنخواہوں سے محروم رہتے ہیں یا پھر اخبار انتظامیہ اپنا معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے انھیں ملازمت سے برخاست کردیتی ہے حالات سے دل برداشتہ کوئی خودکشی کر رہا ہے تو کوئی تعلیم یافتہ ہو کر بھی ٹھیلے پر مامور صرف ایک مخصوص طبقہ مراعات یافتہ ہے جو ذاتی مفادات کے باعث اجتماعی مسائل سے روگردانی کرتا ہے جس کے باعث اکثریت محروم تمنّا رہتی ہے اور اب مسلم لیگ ن کی مریم نواز اور پرویز رشید صاحب کی صحافی برادری سے متعلق آڈیو لیک نے صحافیوں کی موجودہ پوزیشن کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے صحافیوں کو ہدفِ تنقید بنانے والے یاد رکھیں اپوزیشن ہو یا حکومت ہر ایک کو صحافی برادری کی حمایت درکار ہوتی ہے
دوسری جانب صحافیوں کے خلاف پروپیگنڈے اسی صورت دم توڑیں گے کہ جب خود صحافی بھی ذمہ درای کا ثبوت دیں دولت اور اختیار کی ہوس زرد صحافت کی جڑیں مضبوط کر رہی ہے بنا تصدیق خبر کی اشاعت متاثرین کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاسکتی ہے اخبار انتظامیہ کو مطبوعہ خبر کی اشاعت سے قبل حقیقت کی تصدیق کر لینی چاہیے میرا ایک مشہور مطبوعہ کالم کراچی کے ایک معروف اخبار کے ماہر صحافی نے کمال مہارت سے چرا کے اپنے نام سے شائع کرادیا تھا آواز حق بلند کرنے پر اخبار انتظامیہ نے فی الفور انکوائری کرائی صحافی کی معذرت پر میں نے قانونی کارروائی سے گریز کیا اسی طرح تھانہ صدر واہ کی کم عمر مغویہ لائبہ کے اغوا کا مقدمہ درج ہوا تو بااثر ملزمان نے صحافی اور اعلیٰ پولیس افسرکے ذریعے مدعیہ مظلوم ماں پر دباؤ ڈالا اخبار میں معزز ٹھہرائے پولیس افسر کو ہائی کورٹ کے جسٹس صاحب کو گالیاں دینے کی پاداش میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا تو ملزمان کی پشت پناہی ختم ہوئی لیکن جانبدارانہ رویے کے باعث ایک مظلوم ماں کی مغویہ بیٹی کا بیہمانہ قتل کر دیا گیا اصل حقائق بروقت سامنے لائے جاتے تو ایک قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی صحافی قلم کے ذریعے ناقابلِ تسخیر ہو سکتے ہیں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قصیدہ گو کو تاریخ فراموش کر دیتی ہے لیکن راست گو ہمیشہ معتبر حوالے اور سنہری حروف میں یاد رکھے جاتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔