ہومتازہ ترینامریکا وسط مدتی انتخابات، ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل، ٹرمپ نے شکست قبول کرلی

امریکا وسط مدتی انتخابات، ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل، ٹرمپ نے شکست قبول کرلی

واشنگٹن(سب نیوز) امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی شکست قبول کرتے ہوئے ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا کے مڈٹرم الیکشن میں امریکی صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کو ہزیمت کا سامنا ہے جب کہ ڈیموکریٹس نے دونوں ایواںوں ساہ اکثریت حاصل کرلیامریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس پارٹی کو ایوان نمائندگان میں 241 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے جب کہ ری پبلکن کو 149 نشستیں پر برتری ملی جب کہ سادہ اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔ اسی طرح سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کو 54 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ ری پبلکن پارٹی کی 44 نشستیں ہیں۔امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 20 نشستوں پر برتری کے بعد تعداد 54 ہوگئی جب کہ ریپبلکنز کو 13 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی جس کے بعد سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 44 ہوگئی۔
دریں اثنا نتائج کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکست قبول کرنے کا اعلان کردیا۔نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کی راہ نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں فریق کسی سمجھوتے تک پہنچ جائیں۔ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی شکست کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام بیلٹ پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ ان کے بقول اگر وہ خود انتخاب لڑ رہے ہوتے تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔امریکی صدر نے ان ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا جو سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان امیدواروں کی حمایت کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کو بھی درست قرار دیا اور اسے ایک دانش مندانہ فیصلہ قرار دیا۔ دوسری جانب انتخابی نتائج کے بعد انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کریں گے۔ انہوں نے خود کو سیاسی مبصر کے طور پر پیش کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ٹرمپ نے ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر لفظ ویٹو درج تھا۔ اس کے ذریعے انہوں نے اپنے اس سابقہ مقف کا اعادہ کیا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں قانون سازی کے لیے اقدامات کریں گے تو وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔ریپبلکن امیدواروں کی شکست کے باوجود ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو برسوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اپنے اقدامات پر کوئی افسوس نہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔