ہومپاکستانپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے آج بھی عوام کو خوشخبری ملے گی،وفاقی وزرا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے آج بھی عوام کو خوشخبری ملے گی،وفاقی وزرا

اسلام آباد (سب نیوز)وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے عوام کو خوشخبری سنا دی۔وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو یقینا بہت مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی ہوئی ہے، اس کا فائدہ عوام تک پہنچائیں گے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ سردیوں میں گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے تینوں اوقات میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔اپنے خطاب میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض شہروں سے ایل پی جی کی قیمت 700 سے 800 روپے فی کلو تک پہنچنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں اس کی دستیابی کے مسائل بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گزشتہ چند روز سے ایل پی جی کی فراہمی اور قیمتوں کے معاملات پر متعلقہ شعبوں سے رابطے کیے جارہے ہیں تاکہ عوام کی مجبوری سے ناجائز منافع کمانے کا سلسلہ روکا جاسکے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی مجموعی سالانہ طلب تقریبا 24 لاکھ ٹن ہے، جس کے مطابق روزانہ تقریبا 6 ہزار 500 سے 7 ہزار ٹن ایل پی جی درکار ہوتی ہے۔ان کے مطابق ملک میں روزانہ تقریبا 2 ہزار سے 2 ہزار 500 ٹن ایل پی جی مقامی طور پر پیدا کی جاتی ہے، جس میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی)اور مقامی ریفائنریوں کا حصہ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ایل پی جی کی بڑی مقدار مغربی سرحد کے ذریعے پاکستان پہنچتی تھی، تاہم سرحدی سپلائی متاثر ہونے سے اس شعبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ باقی ماندہ ضروریات سمندری راستے سے درآمد کی جانے والی ایل پی جی کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق پاکستان میں سمندر کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے اینگرو اور ایس ایس جی سی ایل کے دو ٹرمینلز موجود ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریبا 14 ہزار ٹن ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی فراہمی کا نظام طویل عرصے تک مناسب منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھے بغیر چلتا رہا، جس کے باعث توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی کمی واضح ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں توانائی کے ذخائر، ریفائنریوں، درآمدی سہولتوں اور ایل پی جی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی۔علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم نے توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر تیار کررہی ہے، جس کے تحت ایل پی جی کی درآمد، ذخیرہ کرنے، ترسیل اور ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے پر کام کیا جائے گا۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال نے پاکستان کے توانائی کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔ اگرچہ ملک کو بیرونی حالات کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہماری اپنی ذمہ داری تھی۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ عالمی منڈی میں ایل پی جی کی ترسیل کا طریقہ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ پہلے یہ گیس زیادہ تر پریشرائزڈ کنٹینرز کے ذریعے منتقل کی جاتی تھی، لیکن اب دنیا میں ریفریجریٹڈ اور کرائیوجینک کارگوز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے پاس بڑے ریفریجریٹڈ جہازوں سے ایل پی جی وصول کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے مطلوبہ سہولتیں موجود نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے جہاز پاکستان پہنچ بھی جائیں تو انہیں اتارنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب انفراسٹرکچر درکار ہوگا۔ اسی لیے حکومت ایل پی جی کے پورے درآمدی اور ترسیلی نظام کو ازسرنو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں سردی اپنے عروج پر ہوگی، اس لیے حکومت ابھی سے گیس کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے گھریلو صارفین کو مہنگی ترین دستیاب گیس بھی خرید کر فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سردیوں میں گھریلو ضروریات پوری ہوسکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ گھریلو صارفین کو ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب ہو۔تاہم اگر گیس کی طلب اور رسد میں فرق برقرار رہا تو اس کے لیے ریشننگ یا محدود فراہمی کا نظام بھی اختیار کرنا پڑسکتا ہے۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملک میں تقریبا ایک کروڑ صارفین گیس کے پائپ لائن نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جو پائپ لائن کے ذریعے گیس حاصل نہیں کرسکتے اور کھانا پکانے سمیت دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ان کے مطابق سردیوں میں ان صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مناسب قیمت پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ پائپ لائن سے منسلک اور اس سہولت سے محروم دونوں طرح کے صارفین کو مناسب قیمت پر ایندھن دستیاب ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔