ہومتازہ ترینپیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ کی 295 دکانوں کے ذمہ 79لاکھ 44 ہزار روپے کے بقایاجات کا انکشاف

پیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ کی 295 دکانوں کے ذمہ 79لاکھ 44 ہزار روپے کے بقایاجات کا انکشاف

راولپنڈی (غلام مصطفی بھٹی)جنرل بس اسٹینڈ پیرودھائی کی تجارتی دکانوں کے کرایہ داروں کے ذمہ کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کے واجبات، مبینہ غیر قانونی سب لیٹنگ اور دکانوں کی اصل ساخت میں تبدیلیوں کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ اکتوبر 2026 تک کے دستیاب کرایہ ریکارڈ کے مطابق 821 دکانوں کے اندراجات میں سے 295 دکانوں کے ذمہ مجموعی طور پر 79 لاکھ 44 ہزار 484 روپے کے کرایہ جات واجب الادا ہیں۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق بعض دکانوں کے اندراجات مختلف ناموں سے موجود ہیں، جن کے ذمہ بالترتیب 64 ہزار 193 روپے، ایک لاکھ 18 ہزار 31 روپے اور 33 ہزار 542 روپے کے بقایاجات درج ہیں۔ یہ نام حال ہی میں جنرل بس اسٹینڈ کے انتظامی معاملات کے حوالے سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے مشترکہ بیان میں بھی سامنے آئے تھے، تاہم متعلقہ افراد کی حتمی شناخت اور لیز ریکارڈ سے ان کا تعلق مزید تصدیق کا متقاضی ہے۔

ذرائع کے مطابق میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی جانب سے جنرل بس اسٹینڈ کی متعدد تجارتی دکانیں 10 سے 15 سال کی طویل مدت کے لیے لیز پر دی گئی تھیں۔ معاہدوں میں سالانہ کرایے میں اضافے، بروقت ادائیگی، دکانوں کی اصل ساخت برقرار رکھنے اور متعلقہ ادارے کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کو دکان دینے یا سب لیٹ کرنے پر پابندی جیسی شرائط شامل ہیں۔ذرائع کا دعوی ہے کہ بعض اصل لیز ہولڈرز مبینہ طور پر خود کاروبار کرنے کے بجائے دکانیں دوسرے افراد کو زیادہ کرایوں پر دے رہے ہیں، جبکہ سرکاری ادارے کو معاہدے کے تحت مقررہ کرایہ ادا کیا جا رہا ہے۔ اس طرح مبینہ طور پر اصل لیز ہولڈرز اور موجودہ کاروباری قابضین کے درمیان کرایوں کا فرق نجی مالی فائدے کا ذریعہ بن رہا ہے۔دوسری جانب بعض دکانوں کی اندرونی دیواریں ہٹا کر اضافی تجارتی حصے بنانے، علیحدہ کانٹرز قائم کرنے اور عوامی گزرگاہوں پر تجاوزات کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اصل 821 تجارتی یونٹس کی تقسیم اور اضافی کانٹرز کے قیام کے نتیجے میں زیر استعمال تجارتی یونٹس کی تعداد تقریبا 950 تک پہنچنے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔

تاہم اس تعداد کی حتمی تصدیق کے لیے سرکاری نقشوں، لیز معاہدوں اور موقع پر موجود دکانوں کا مشترکہ سروے ناگزیر ہے۔دستیاب لیز معاہدوں کی بعض شرائط کے مطابق مسلسل تین ماہ تک کرایہ ادا نہ کرنا، بغیر اجازت دکان سب لیٹ کرنا، اصل تعمیراتی ساخت میں تبدیلی کرنا یا عمارت کو نقصان پہنچانا معاہدے کی منسوخی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی لیز کی منسوخی یا قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ قوانین، معاہدے کی شرائط، شواہد اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔جنرل بس اسٹینڈ پیرودھائی میں انتظامی تبدیلی کے بعد تجارتی املاک کے کرایوں، اصل لیز ہولڈرز، موجودہ قابضین، مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری واجبات کی وصولی کا معاملہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام دکانوں کا شفاف اور بلاامتیاز مالی و انتظامی آڈٹ کرایا جائے، اصل لیز ہولڈرز اور موجودہ قابضین کا ریکارڈ مرتب کیا جائے، واجب الادا کرایوں کی تصدیق کے بعد وصولی یقینی بنائی جائے اور ثابت شدہ غیر قانونی سب لیٹنگ، دکانوں کی تقسیم اور تجاوزات کے خلاف قانون اور معاہدوں کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری تجارتی املاک سے حاصل ہونے والی آمدن قومی و بلدیاتی خزانے میں جمع ہونی چاہیے، نہ کہ مبینہ غیر قانونی طریقوں سے نجی مفادات کا ذریعہ بنے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔