ہومپاکستاناکبر نیازى ہسپتال کی جانب سے ہزاروں افراد کی اسکریننگ، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی قومی مہم میں اہم پیش رفت

اکبر نیازى ہسپتال کی جانب سے ہزاروں افراد کی اسکریننگ، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی قومی مہم میں اہم پیش رفت

ڈاکٹر اکبر نیازى ٹیچنگ ہسپتال نے جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے ہزاروں ملازمین، طلبہ اوران کے اہلِ خانہ کی اسکریننگ کے بعد یہ سہولت عام لوگوں تک بھی پہنچا دی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے وزیراعظم کے قومی پروگرام برائے خاتمہ ہیپاٹائٹس سی کے تحت جاری اس اقدام کے ذریعے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گردونواح میں مختلف مقامات پر روزانہ‏ اسکریننگ کیمپس لگائے جا رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔

اس مہم کے تحت اسلام آباد کی اقراء یونیورسٹی، آزاد جموں و کشمیر کے شہر مظفرآباد میں علی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، پنجاب کالج، دی اسمارٹ اسکول اور بھارہ کہو سمیت مختلف تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں اسکریننگ کیمپس لگائے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد لوگوں کو ان کے قریبی علاقوں میں اسکریننگ کی سہولت فراہم کرنا اور انہیں بیماری سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔

اقراء یونیورسٹی اسلام آباد میں اسکریننگ کیمپ کا افتتاح وزیراعظم کے قومی ہیپاٹائٹس پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء اللہ خان داوڑ، جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے گروپ چیف ایگزیکٹو یاسر خان نیازی اور اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اعتزاز احمد نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پرسٹی یونیورسٹی اسلام آباد اور اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے وائس چانسلر میجر جنرل (ر) پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم اور جی اے کے کی ڈائریکٹر آف ہاسپٹلز ڈاکٹراریج نیازی بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر داوڑ نے قومی مہم میں اے این ٹی ایچ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون سے اسکریننگ کا دائرہ وسیع کرنے اور پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کی جانب پیش رفت تیز کرنے میں مدد ملی ہے۔

یاسرنیازی نے اس اقدام کو جی اے کے ہیلتھ کیئرکے اس بنیادی عزم سے جوڑا کہ معیاری صحت کی سہولیات ہر فرد کی دسترس میں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سب کے لیے معیاری صحت کی سہولت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو بیماری پیچیدہ ہونے سے پہلے ضروری طبی خدمات تک رسائی حاصل ہو۔ اسکریننگ کو کمیونٹی کی سطح تک لے جا کر اور جن افراد کے ٹیسٹ مثبت آئیں انہیں ادویات اور علاج فراہم کرکے ہم اپنے اس عزم کو عملی شکل دے رہے ہیں۔ سرکاری اداروں اور طبی شعبے کے درمیان اشتراک ضروری سہولیات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے اور پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے.

اس مہم میں آئی ایم ڈی سی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن اور میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی کے طلبہ نے بھی حصہ لیا، جہاں انہیں بیماریوں سے بچاؤ اور عوامی صحت کے حوالے سے عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔

اے این ٹی ایچ کی یہ کوششیں صرف اسکریننگ تک محدود نہیں ہیں۔ جن افراد کے ٹیسٹ مثبت آتے ہیں، انہیں ادویات اور علاج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ بروقت تشخیص کے بعد وہ مناسب طبی نگہداشت حاصل کر سکیں۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بیماری کی تشخیص اور علاج کی سہولیات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جائیں۔ اے این ٹی ایچ کی یہ مہم اسی سمت میں ایک عملی قدم ہے، جو اسکریننگ کو ہسپتالوں اور اداروں سے نکال کر کمیونٹی کی سطح تک لے جا رہی ہے اور متاثرہ افراد کو علاج کی سہولت فراہم کرکے ملک کی قومی کوششوں میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔