مکہ مکرمہ (سب نیوز)سعودی عرب کی مکہ مکرمہ ریجن میں مسجد کی حرمت پامال کرتے ہوئے قبیح جنسی فعل کے ارتکاب پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو دی جانے والی سزائے موت کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا پروپیگنڈا مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹا نکلا ہے۔شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ گمراہ کن مہم پاکستان، بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے مابین تعلقات خراب کرنے اور مسلم امہ کو نشانہ بنانے کے لیے چلائی جا رہی تھی۔
سعودی وزارت داخلہ نے 14 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اپنے سرکاری بیان میں بتایا کہ بنگلہ دیشی شہریوں نذر الاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں قبیح جنسی فعل کے ارتکاب پر تعزیری سزائے موت دی گئی۔ترجمان کے مطابق دونوں افراد کو موقع پر گرفتار کر کے تفتیش کی گئی اور مقدمہ متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے جرم کی سنگینی اور مقدس مقام کی حرمت کی خلاف ورزی پر ٹھوس شواہد کی بنا پر تعزیری سزائے موت سنائی، جس کی اعلی عدالتی اتھارٹی اور شاہی حکم کے ذریعے توثیق کے بعد 14 اکتوبر کو مکہ مکرمہ ریجن میں سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ جھوٹا دعوی وائرل کیا گیا کہ سزا پانے والے مرد اور خاتون میاں بیوی تھے اور شوہر نے مسجد میں اپنی اہلیہ کی پیشانی چومی تھی۔تاہم حقائق سامنے آنے پر یہ دعوی باطل ثابت ہو گیا۔ بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ جاگو نیوز کی 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مجرم نذر الاسلام کے والد عبدالبصیر نے واضح کیا کہ ان کا بیٹا غیر شادی شدہ تھا اور ان کا خاندان متعلقہ خاتون کو بالکل نہیں جانتا تھا۔ بنگلہ دیش کے آزاد فیکٹ چیکنگ ادارے ڈسمس لیب نے بھی وائرل ویڈیو کو بالکل جعلی قرار دیا ہے۔ادارے کی 19 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیقات کے مطابق وائرل ویڈیو چند سال پرانی ہے اور اس میں دکھائی دینے والی خاتون کا تعلق کسی اور ملک سے ہے۔
اس واقعے میں ایک پاکستانی شہری کے کردار کے بارے میں بھی من گھڑت باتیں پھیلائی گئیں کہ اس نے ویڈیو بنائی یا حکام کو اطلاع دی۔ سعودی وزارت داخلہ کے سرکاری بیان میں کسی پاکستانی شہری، اطلاع دہندہ یا ویڈیو بنانے والے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق یہ قبیح جرم ثابت کرنے والی ویڈیوز کسی فرد نے نہیں بلکہ سعودی حکام نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے حاصل کی ہیں۔بنگلہ دیش کی حکومت نے اپنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیں۔ بنگلہ دیش کی نائب وزیر خارجہ شمع عبید اسلام نے 19 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا کہ حکومت عدالتی فیصلے کی تفصیلات حاصل کر رہی ہے اور اس کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے سعودی حکام کے ردعمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے روابط کو انتہائی اہم قرار دیا۔
بنگلہ دیشی اخبار پرتھم آلو کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل جنرل نے سعودی وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی اور عدالتی کارروائی سمیت مجرموں کو اپنے دفاع کا پورا موقع ملنے کے حوالے سے تمام معلومات حاصل کیں۔سعودی عرب کا شمار دنیا کے ان سر فہرست ممالک میں ہوتا ہے جہاں قوانین پر بلا تفریق اور مکمل عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔سعودی عرب کے علاوہ تمام اسلامی ممالک میں مساجد اور مقاماتِ مقدسہ کی حرمت انتہائی مقدم سمجھی جاتی ہے اور وہاں ایسے تمام جرائم، بالخصوص جنسی جرائم پر سخت ترین سزائیں مقرر ہیں۔تحقیقات سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ مکہ مکرمہ کی مسجد میں کیے جانے والے اس سنگین جرم کو معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے اور جائز قانونی کارروائی کو متنازع بنانے والے بیشتر سوشل میڈیا اکانٹس بھارتی ہیں یا پھر وہ سعودی عرب اور مسلم دنیا سے پرخاش رکھتے ہیں۔غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ شرپسند عناصر اس واقعے کی آڑ میں بیک وقت سعودی عرب، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے سفارتی اور مذہبی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
بیوی کا ماتھا چومنے کا دعوی جھوٹا، مسجد میں قبیح حرکت کرنے والا جوڑاغیرشادی شدہ نکلا، حکام کی تصدیق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
