تحریر : شاہدزمان
ایسٹ انڈیا کمپنی سے سبق، عالمی قرض، قومی خودمختاری اور اسلامی معاشی عدلکیا تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے؟تاریخ ہمیشہ ایک ہی شکل میں واپس نہیں آتی۔ کبھی بیرونی طاقتیں فوج لے کر آتی ہیں، کبھی تجارت کے راستے اثر و رسوخ بڑھاتی ہیں اور کبھی مالیاتی انحصار، قرض اور معاہدوں کے ذریعے کسی ملک کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ زمانہ بدل جاتا ہے، طریقے بدل جاتے ہیں، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ رہتا ہے: فیصلہ کرنے کا حقیقی اختیار کس کے پاس ہے؟آج پاکستان کی معاشی صورتِ حال پر غور کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور زوال پذیر مغلیہ اقتدار کی تاریخ کے بعض مناظر ابھرتے ہیں۔ مقصد یہ دعوی کرنا نہیں کہ آج کے بین الاقوامی مالیاتی ادارے ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسرا روپ ہیں، بلکہ یہ سوال اٹھانا ہے کہ کیا کوئی ملک مسلسل مالیاتی انحصار کی حالت میں اپنی معاشی خودمختاری کو مکمل طور پر محفوظ رکھ سکتا ہے؟کیا قرض کی ضرورت آہستہ آہستہ قومی ترجیحات طے کرنے کی آزادی کو محدود کر سکتی ہے؟ کیا اصلاحات کے نام پر ایسے فیصلوں کا تسلسل پیدا ہو سکتا ہے جن کے معاشرتی نتائج عام شہری برداشت کرے، جبکہ فیصلہ سازی کی اصل ذمہ داری اور جواب دہی واضح نہ ہو؟اور سب سے اہم سوال: ہمیں اس صورتِ حال تک پہنچانے میں بیرونی حالات کا کتنا اور اپنی پالیسیوں، بدانتظامی، سیاسی مفادات اور حکمران طبقات کی ترجیحات کا کتنا حصہ ہے؟مغلیہ سلطنت: جب مالی اختیار سیاسی خودمختاری کو کمزور کرنے لگاتاریخ کے صفحات پلٹیں تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی داستان محض تجارت اور فوجی فتوحات کی داستان نہیں۔ یہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ تجارتی مفادات، مالیاتی اختیارات، داخلی سیاسی اختلافات اور عسکری قوت کس طرح مل کر اقتدار کا توازن تبدیل کر سکتے ہیں۔1757 کی جنگِ پلاسی کے بعد بنگال میں کمپنی کا اثر و رسوخ بڑھا۔ 1764 کی جنگِ بکسر اور اس کے بعد 1765 میں معاہد الہ آباد کے نتیجے میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی، یعنی محصولات وصول کرنے کا اختیار، دے دیا۔ اس کے بدلے بادشاہ کے لیے سالانہ ادائیگی کا انتظام بھی معاہدے کا حصہ تھا۔ یوں مالی وسائل جمع کرنے کا ایک بنیادی اختیار کمپنی کے ہاتھ میں آ گیا۔یہ تبدیلی محض حساب کتاب کی تبدیلی نہیں تھی۔ جس ادارے کے ہاتھ میں آمدنی جمع کرنے، اخراجات کے لیے وسائل مختص کرنے اور اپنی عسکری قوت کو مالی اعانت دینے کی صلاحیت ہو، وہ رفتہ رفتہ سیاسی معاملات پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔برطانوی پارلیمان میں 1833 کی ایک بحث میں خود ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی ادارے سے بڑی سیاسی و حکومتی طاقت بننے کے تدریجی عمل کا ذکر کیا گیا۔ اس بحث میں واضح کیا گیا کہ یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں ہوئی؛ تجارتی اور سیاسی اختیارات کا باہمی تعلق وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔ اس تاریخ کا سب سے اہم سبق میرے نزدیک یہی ہے کہ خودمختاری ہمیشہ ایک ہی دن میں ختم نہیں ہوتی۔ کبھی اس کی ظاہری علامتیں برقرار رہتی ہیں، لیکن فیصلہ سازی کی عملی گنجائش بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔بادشاہ کا لقب باقی ہو سکتا ہے، دربار قائم رہ سکتا ہے اور سرکاری فرمان بھی جاری ہوتے رہ سکتے ہیں۔ مگر اگر آمدنی کے اہم ذرائع، اخراجات کی گنجائش اور انتظامی فیصلوں پر اختیار محدود ہو جائے تو اقتدار کے ظاہری وجود اور اس کی حقیقی قوت میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔یہاں ہمیں ایک بات نہیں بھولنی چاہیے: مغلیہ اقتدار کے زوال کی وجوہات صرف مالیاتی معاملات نہیں تھیں۔ فوجی شکستیں، داخلی انتشار، علاقائی طاقتوں کا ابھار اور سیاسی اتحادوں کی تبدیلی بھی اہم عوامل تھے۔ تاہم مالی اختیار کی منتقلی اس وسیع تبدیلی کا ایک اہم پہلو ضرور تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا اس تاریخ سے ہم نے کوئی سبق حاصل کیا؟آج کے دور میں مالیاتی انحصار کا خطرہآج دنیا کی معیشت قرض، تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ کسی ملک کے لیے بیرونی قرض لینا بذاتِ خود نہ غیر معمولی ہے اور نہ لازما نقصان دہ۔ اگر قرض پیداواری صلاحیت بڑھانے، بنیادی ڈھانچہ بہتر کرنے، برآمدات میں اضافہ کرنے یا کسی عارضی معاشی بحران سے نکلنے کے لیے مناسب شرائط پر استعمال کیا جائے تو وہ ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔اصل مسئلہ قرض نہیں، بلکہ قرض پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور اس انحصار سے پیدا ہونے والی محدود فیصلہ سازی ہے۔جب کسی ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے، بیرونی ادائیگیاں کرنے اور ضروری درآمدات جاری رکھنے کے لیے مسلسل نئے قرضوں کی ضرورت پڑے تو اس کی مذاکراتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ قرض دہندہ اپنی مالی رقم کے تحفظ کے لیے شرائط رکھتا ہے اور قرض لینے والا ملک ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے اپنی معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کرتا ہے۔یہ تعلق لازما نوآبادیاتی تسلط نہیں ہوتا، لیکن اس میں طاقت کا توازن غیر مساوی ہو سکتا ہے۔ قرض دینے والے کا مقصد مالی استحکام اور قرض کی واپسی کو یقینی بنانا ہو سکتا ہے، جبکہ قرض لینے والے ملک کے لیے اسی دوران روزگار، غربت میں کمی، صحت، تعلیم اور معاشی ترقی کی ضروریات بھی پوری کرنا لازم ہوتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ ان مختلف مقاصد میں توازن کس طرح قائم کیا جائے۔اکتوبر 2026 میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان پروگراموں کے جائزوں پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا، جس کے تحت بورڈ کی منظوری سے تقریبا 1.21 ارب ڈالر کی مالی اعانت تک رسائی ممکن ہو سکتی تھی۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان بیرونی مالی اعانت پر انحصار کر رہا ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور قرضوں کی ادائیگیاں پوری کی جا سکیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی دلیل نہیں کہ پاکستان کی خودمختاری ختم ہو چکی ہے، لیکن یہ ضرور بتاتی ہے کہ بیرونی مالیاتی ضروریات ہماری معاشی حکمتِ عملی میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔اسی لیے ہمیں جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مالیاتی انحصار کیوں پیدا ہوتا ہے، اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں اور اس سے نکلنے کا قابلِ عمل راستہ کیا ہو سکتا ہے۔کیا عالمی ادارے ہمارا بجٹ بناتے ہیں؟اس سوال پر ایک وضاحت ضروری ہے۔آئینی طور پر پاکستان کا وفاقی بجٹ حکومت پیش کرتی ہے اور مالیاتی قانون سازی قومی اسمبلی کے ذریعے ہوتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 73 میں منی بل کے طریق کار اور آرٹیکل 80 میں سالانہ بجٹ گوشوارے کا ذکر موجود ہے۔ لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا کوئی غیر ملکی حکومت پاکستان کی پارلیمان کی جگہ قانونی طور پر وفاقی بجٹ بناتی یا منظور کرتی ہے۔ لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔جب مالیاتی پروگرام کے تحت حکومت مخصوص مالیاتی اہداف، ٹیکس اقدامات یا بجٹ سے متعلق طے شدہ معیار پورا کرنے کا وعدہ کرتی ہے، تو ان شرائط کا بجٹ کی تیاری اور معاشی فیصلوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔مثلا آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق 2025 کی پروگرام دستاویز میں مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی پارلیمانی منظوری کو پروگرام کے طے شدہ اہداف سے ہم آہنگ رکھنے کا تقاضا درج تھا۔ اس سے فرق واضح ہوتا ہے: بجٹ کی رسمی منظوری ملکی آئینی عمل کے تحت ہوتی ہے، مگر اس کے بعض مالیاتی پیرامیٹرز بیرونی قرض پروگرام کی شرائط سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ بجٹ پر کس کے دستخط ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بجٹ کی ترجیحات طے کرتے وقت حکومت کے پاس کتنی حقیقی گنجائش موجود ہے، کن شرائط کو قبول کیا گیا ہے، ان شرائط کے متبادل کیا تھے اور ان کے اثرات عوام پر کس طرح مرتب ہوں گے۔اگر کسی مالیاتی فیصلے سے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا ہے، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا عوامی اخراجات محدود ہوتے ہیں تو حکومت کو عوام کے سامنے اس فیصلے کی وجوہات، متوقع فوائد اور ممکنہ نقصانات واضح کرنے چاہییں۔بیرونی معاہدہ کرنے کا اختیار قومی حکومت کے پاس ہو تو اس کی سیاسی اور اخلاقی جواب دہی بھی اسی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔قومی خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی سے قرض نہ لیں یا بین الاقوامی معاہدوں سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرض لینے سے پہلے اپنی ضروریات، صلاحیتوں اور متبادل راستوں کا جائزہ لیں، شرائط کو شفاف انداز میں سمجھیں، قومی مفاد کے مطابق مذاکرات کریں اور ایسے فیصلوں سے بچیں جو مستقبل میں ہمارے اختیارات کو غیر ضروری طور پر محدود کر دیں۔ابن خلدون: ریاست خزانہ بڑھائے یا معاشی بنیاد مضبوط کرے؟ابن خلدون نے اپنی معروف تصنیف المقدمہ میں ریاست، معاشرے، ٹیکس، پیداوار اور سیاسی زوال کے باہمی تعلق کا مطالعہ کیا۔ ان کے معاشی تجزیے سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ حکومت کی مالی قوت کا انحصار صرف ٹیکس کی شرح بڑھانے پر نہیں، بلکہ معاشی سرگرمی، لوگوں کے کاروبار کرنے کی صلاحیت اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد پر بھی ہوتا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ جب حکومتی اخراجات بڑھتے ہیں اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا جاتا ہے تو کاروباری سرگرمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر پیداوار، تجارت اور سرمایہ کاری کمزور ہوں تو زیادہ آمدنی حاصل کرنے کی کوشش الٹا محصولات کی بنیاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس سوچ کو آج کے پاکستان پر لاگو کریں۔اگر حکومت کی پہلی ترجیح ہر سال نئے قرض کا انتظام اور فوری مالی خسارے کو پورا کرنا بن جائے، لیکن پیداوار، برآمدات، روزگار اور ٹیکس نظام کی بنیادی اصلاحات مسلسل مخر ہوتی رہیں تو ملک بار بار اسی مالیاتی مشکل میں واپس آ سکتا ہے۔اگر حکومت آمدنی بڑھانے کے لیے زیادہ تر ایسے اقدامات کرے جن کا بوجھ فوری طور پر صارفین پر پڑتا ہے، لیکن غیر ضروری اخراجات، ٹیکس رعایتوں، محصولات کی عدم مساوات اور غیر پیداواری سرمایہ کاری کا مثر جائزہ نہ لے تو معاشی انصاف کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اس کے برعکس اگر ریاست کاروبار کے لیے قابلِ اعتماد قوانین، بہتر بنیادی ڈھانچہ، مثر عدالتی نظام اور شفاف ٹیکس پالیسی مہیا کرے تو لوگ سرمایہ کاری کرنے، روزگار پیدا کرنے اور اپنی معاشی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔ابن خلدون کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاست کی مالی مضبوطی اور معاشرے کی معاشی قوت کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں کھڑا کرنا چاہیے۔ ایک مضبوط معیشت ریاست کو مستحکم محصولات دیتی ہے، جبکہ منصفانہ اور مثر ریاست معاشی سرگرمی کے لیے اعتماد پیدا کرتی ہے۔قومی خزانہ مضبوط کرنے کا پائیدار راستہ صرف ٹیکس بڑھانا نہیں، بلکہ ایسی معیشت تعمیر کرنا بھی ہے جس میں زیادہ شہری پیداوار کریں، کاروبار بڑھائیں اور جائز آمدنی حاصل کریں۔مارکس کا سوال: دولت اور اختیار کس کے ہاتھ میں مرتکز ہیں؟کارل مارکس کی معاشی فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اور نجی ملکیت کے بارے میں ان کے نظریے کو اسلامی معاشی اصولوں کے ساتھ یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن معاشی طاقت، طبقاتی مفادات، سرمایہ اور محنت کے تعلقات پر ان کے اٹھائے گئے سوالات آج بھی معاشی نظام کے تجزیے کے لیے ایک زاویہ فراہم کرتے ہیں۔مثلا یہ سوال کہ مالی پالیسی کے فوائد کس طبقے تک پہنچتے ہیں؟ قرض کی ادائیگی کا بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ کاروباری منافع، ٹیکس رعایتوں اور حکومتی سہولتوں سے کن لوگوں کو زیادہ فائدہ ملتا ہے؟ اور کیا معاشی فیصلوں میں عام مزدور، چھوٹے تاجر، کسان اور متوسط طبقے کی ضروریات کو مناسب اہمیت دی جاتی ہے؟ان سوالات کو اٹھانے کا مقصد معاشرے میں طبقاتی نفرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ معاشی فیصلوں کے فائدے اور نقصانات کس طرح تقسیم ہوتے ہیں۔اگر کسی ملک میں معاشی وسائل چند مراکز یا محدود بااثر طبقات کے گرد مرتکز رہیں، جبکہ وسیع آبادی بنیادی سہولتوں اور معاشی مواقع سے محروم رہے، تو صرف مجموعی معاشی نمو عوامی خوشحالی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔اسی طرح اگر حکومت قرض لے کر ایسے اخراجات جاری رکھے جن سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہ ہو، تو اس قرض کی واپسی کا بوجھ آئندہ برسوں کے ٹیکس دہندگان پر منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل کے ترقیاتی اخراجات اور سماجی خدمات کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو جائیں۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: معاشی طاقت کے ارتکاز پر تنقید کرنے کا مطلب جائز نجی ملکیت کو ختم کرنا نہیں۔ اس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا معاشی مواقع منصفانہ طور پر دستیاب ہیں، منڈی میں مقابلے کی گنجائش موجود ہے، کارکنوں کو مناسب حقوق ملتے ہیں اور ریاست کے وسائل کسی محدود مفاد کے بجائے وسیع تر قومی فائدے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔اسلامی معاشی نظام: نجی ملکیت بھی، اجتماعی ذمہ داری بھیاسلامی نقط نظر سے اس بحث کا ایک واضح اخلاقی اور معاشی رخ سامنے آتا ہے۔اسلام جائز نجی ملکیت، تجارت، معاہدوں اور حلال طریقے سے کمائی گئی دولت کے تحفظ کو تسلیم کرتا ہے۔ قرآن مجید سور النسا، آیت 29 میں باہمی رضامندی سے جائز تجارت کی اجازت دیتے ہوئے دوسروں کے اموال ناحق کھانے سے منع کرتا ہے۔ سور النسا، آیت 58 امانتیں اہلِ حق تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اس اصول کے مطابق کسی شخص کی جائز جائیداد، کاروبار یا سرمایہ محض اس وجہ سے ختم کر دینا کہ وہ نجی ملکیت ہے، اسلامی معاشی تصور کا لازمی تقاضا نہیں۔ بلکہ ایک منصفانہ نظام کو ملکیت کے حقوق کی حفاظت، معاہدوں کی پاسداری اور کاروبار کے لیے قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرنا چاہیے۔لیکن نجی ملکیت کا تحفظ اور معاشی استحصال کی اجازت دو الگ باتیں ہیں۔دولت کمانے کا حق دوسروں کا حق غصب کرنے، ناجائز منافع خوری، دھوکا دہی، اجارہ داری یا عوامی وسائل کے ناجائز استعمال کا جواز نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ریاست کو بھی کسی شہری کے جائز مال کو من مانے طریقے سے چھیننے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔قرآن مجید کی سور الحشر، آیت 7 میں فے کی تقسیم کے مخصوص سیاق میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ دولت محض مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔ اس اصول سے عمومی معاشی رہنمائی یہ ملتی ہے کہ معاشرے میں دولت کی گردش، ضرورت مندوں کے حقوق اور اجتماعی فلاح کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہاں اسلامی معاشی فکر اور ہماری مجوزہ اصلاحات کے درمیان ایک عملی تعلق قائم ہوتا ہے: جائز نجی ملکیت برقرار رہے، کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے، لیکن ٹیکس نظام منصفانہ ہو، عوامی خزانے کی امانت کا تحفظ ہو، دولت کی ناجائز ارتکاز کی حوصلہ شکنی کی جائے اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے مثر سہارا موجود ہو۔زکو، صدقات، وقف، قانونی اور منصفانہ محصولات، بنیادی عوامی خدمات، چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی اور پیداواری سرمایہ کاری اس سمت میں مختلف کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہمیں نہ ایسا نظام چاہیے جس میں ریاست ہر نجی معاشی سرگرمی پر قبضہ کر لے، اور نہ ایسا جس میں معاشی طاقت رکھنے والوں کے مفادات کے سامنے عام شہری کے حقوق بے معنی ہو جائیں۔اسلامی معاشی عدل کا مطلوبہ راستہ یہ ہے کہ ملکیت محفوظ ہو، محنت کی قدر ہو، تجارت جائز ہو، دولت گردش کرے اور ریاست امانت و انصاف کے ساتھ کام کرے۔پھر قابلِ عمل راستہ کیا ہے؟قومی خودمختاری کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمیں بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ اگر معیشت کی ساخت، محصولات کا نظام، حکومتی اخراجات اور سیاسی طرزِ حکمرانی تبدیل نہ ہوں تو قرض پر انحصار ختم کرنے کا نعرہ عملی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔اس لیے ہمیں مرحلہ وار، قابلِ پیمائش اور عوامی جواب دہی پر مبنی اصلاحات کی ضرورت ہے۔پہلا قدم: ہر بیرونی قرض اور مالیاتی معاہدے کی شفافیتحکومت ہر بڑے بیرونی قرض، ضمانت، مالیاتی پروگرام اور اس کی بنیادی شرائط کو عام فہم اردو میں عوام کے سامنے پیش کرے۔ قرض کی مدت، لاگت، ادائیگی کا طریقہ، متعلقہ اصلاحات، متوقع معاشی فوائد اور سماجی اثرات واضح ہوں۔پارلیمان میں متعلقہ کمیٹیوں کو معاہدوں کی شرائط کا جائزہ لینے اور متبادل امکانات پر بحث کا مثر موقع ملے۔ قومی حساسیت یا تجارتی رازداری سے متعلق ضروری حدود کے اندر رہتے ہوئے عوام کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے نام پر لیا گیا قرض کہاں خرچ ہوگا اور اس کی ادائیگی کیسے کی جائے گی۔دوسرا قدم: مالیاتی خودمختاری کی پارلیمانی نگرانیپاکستان کو ایک ایسا مستقل مالیاتی و قرضہ نگرانی کا نظام مضبوط کرنا چاہیے جو حکومتی قرض، اس کی آئندہ ادائیگیوں، مالیاتی خطرات اور شرائط کی پابندی کا باقاعدہ جائزہ لے۔ہر نئے بڑے قرض کے لیے یہ واضح کیا جائے کہ اس سے کیا حاصل ہوگا، اس کی ادائیگی کے لیے کون سے وسائل دستیاب ہوں گے اور اگر متوقع نتائج حاصل نہ ہوئے تو متبادل کیا ہوگا۔قرض لینا بذاتِ خود ناکامی نہیں؛ بغیر واضح مقصد، پیداواری منصوبے اور ادائیگی کی صلاحیت کے قرض لینا مالی خطرہ ہے۔تیسرا قدم: ٹیکس کا بوجھ منصفانہ بناناحکومت کو ایک ایسے ٹیکس نظام کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے جس میں ٹیکس کی ذمہ داری معاشی صلاحیت کے مطابق زیادہ منصفانہ ہو، مختلف شعبوں کو حاصل غیر ضروری مراعات اور استثنا کا جائزہ لیا جائے، ٹیکس چوری کی روک تھام ہو اور محصولات کا دائرہ وسیع کیا جائے۔اس عمل میں کم آمدنی والے گھرانوں، چھوٹے کاروبار اور روزگار پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر غیر ضروری دبا سے بچنا ضروری ہے۔ منصفانہ ٹیکس نظام کا مقصد صرف خزانے کی آمدنی بڑھانا نہیں، بلکہ یہ اعتماد پیدا کرنا بھی ہے کہ ریاست شہریوں کے ساتھ یکساں اصولوں کے مطابق معاملہ کرتی ہے۔چوتھا قدم: قرض کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرناترقیاتی قرضوں کو ایسے منصوبوں سے جوڑا جائے جن سے مقامی پیداوار، برآمدات، توانائی کی کارکردگی، فنی مہارت، زرعی قدر افزائی، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھیں۔ہر بڑے منصوبے کے لیے لاگت اور متوقع معاشی فائدے کا جائزہ لیا جائے۔ جو قرض مستقبل میں آمدنی پیدا کرنے یا ملک کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد نہیں دیتا، اس کے استعمال کی غیر معمولی وضاحت اور سخت جانچ ہونی چاہیے۔مقصد یہ نہیں کہ قرضوں سے ہر حال میں منافع ہی حاصل ہو؛ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے بعض منصوبوں کے سماجی فوائد بھی اہم ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ قرض کا استعمال واضح قومی ترجیحات اور قابلِ پیمائش نتائج کے ساتھ وابستہ ہو۔پانچواں قدم: مقامی حکومتیں اور نیچے سے اوپر معاشی ترقیاگر مالیاتی اصلاحات کا فائدہ صرف مرکزی حکومت کے کھاتے، بڑے شہروں یا چند بڑے منصوبوں تک محدود رہے تو عام شہری کو تبدیلی کا احساس نہیں ہوگا۔مقامی حکومتوں کو ان کی ذمہ داریوں کے مطابق مالی وسائل اور اختیارات دیے جائیں۔ پانی، صفائی، مقامی سڑکوں، بنیادی سہولتوں، فنی تربیت اور مقامی کاروبار کے فروغ جیسے معاملات میں منتخب اداروں کو مثر کردار ملے۔ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں آبادی کے ساتھ غربت، محرومی، بنیادی سہولتوں کی کمی اور مقامی معاشی امکانات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔اس طرح ترقی اوپر سے نیچے آنے والے وعدے کے بجائے نیچے سے اوپر اٹھنے والی معاشی قوت بن سکتی ہے۔چھٹا قدم: قومی آمدنی بڑھانے کے لیے کاروبار اور پیداوار کو مضبوط کرناپاکستان کی مالیاتی خودمختاری کے لیے پائیدار زرمبادلہ کی آمدنی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضروری ہے۔ اس کے لیے برآمدات کو متنوع بنانا، زرعی پیداوار کی قدر بڑھانا، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مسابقت بہتر کرنا، غیر ضروری درآمدی انحصار کم کرنے کے قابلِ عمل راستے تلاش کرنا اور چھوٹے و درمیانے کاروبار کو ترقی کے مواقع دینا اہم اقدامات ہیں۔کاروبار کے لیے قابلِ اعتماد قوانین، معاہدوں کا تحفظ، مناسب مسابقت اور پالیسیوں میں تسلسل سرمایہ کاری کے اعتماد کو بڑھا سکتے ہیں۔اس عمل میں حکومت کا کردار ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جس میں نجی کاروبار ترقی کر سکے، نہ کہ وہ غیر یقینی پالیسیوں یا بااثر حلقوں کی ناجائز برتری کے باعث کمزور ہو۔ساتواں قدم: سماجی تحفظ کو اصلاحات کا لازمی حصہ بنانامعاشی اصلاحات کے فوائد طویل مدت میں سامنے آ سکتے ہیں، لیکن ان کے بعض اخراجات فوری طور پر عام شہری برداشت کرتا ہے۔ اس لیے تعلیم، بنیادی صحت، غذائی تحفظ اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے مثر سماجی تحفظ کو اصلاحاتی منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جائے۔حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ معاشی تبدیلی کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو کیسے سہارا دیا جائے گا اور انہیں روزگار یا آمدنی کے بہتر مواقع تک کیسے پہنچایا جائے گا۔معاشی استحکام اور سماجی انصاف کو ایک دوسرے کے مخالف اہداف بنانے کے بجائے انہیں ایک ہی پالیسی کے دو ضروری تقاضوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔حکومت، اپوزیشن اور عوام کا کرداریہ اصلاحات محض کسی ماہرِ معاشیات، وزیرِ خزانہ یا بین الاقوامی ادارے کے ذریعے مکمل نہیں ہو سکتیں۔ ان کے لیے قومی اتفاقِ رائے، سیاسی تسلسل اور اجتماعی ذمہ داری درکار ہے۔حکومت کو چاہیے کہ مالیاتی فیصلوں کے بارے میں شفافیت اختیار کرے، معاہدوں کی وضاحت کرے اور عوامی اثرات کو نظرانداز نہ کرے۔اپوزیشن کو چاہیے کہ صرف قرض پروگرام کی مخالفت یا حمایت تک محدود نہ رہے، بلکہ متبادل مالیاتی راستے، محصولات بڑھانے کے منصفانہ طریقے، اخراجات میں اصلاح اور پیداواری ترقی کا قابلِ عمل منصوبہ بھی پیش کرے۔پارلیمان کو مالیاتی معاہدوں، بجٹ اور قرض کے استعمال پر حقیقی نگرانی کرنی چاہیے، جبکہ آڈٹ کے ادارے اس بات کی جانچ کریں کہ عوامی رقم طے شدہ مقصد کے مطابق خرچ ہوئی یا نہیں۔عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ انہیں محض مہنگائی اور ٹیکسوں پر شکایت کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ یہ سوال بھی اٹھانا چاہیے کہ ٹیکس کی رقم کہاں خرچ ہوتی ہے، حکومت کس بنیاد پر قرض لیتی ہے اور کسی نئی پالیسی سے حاصل ہونے والے فوائد کس طرح تقسیم ہوں گے۔یہی جمہوری جواب دہی ہے: حکومت کو اختیار دینا، مگر اس اختیار کے استعمال کا حساب بھی مانگنا۔آخر کب تک؟ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ کا مقصد ہمیں ماضی کے خوف میں مبتلا کرنا نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے چوکس کرنا ہے۔ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر بیرونی قرض لازما قومی غلامی ہے، یا ہر بین الاقوامی اصلاحی تجویز لازما ہمارے مفاد کے خلاف ہے۔ بعض بیرونی مالیاتی پروگرام بحران سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں، اور بعض اصلاحات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی ضرورت ملک کو اپنے مفاد میں خود محسوس کرنی چاہیے۔اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اپنی معاشی کمزوریوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں یا نہیں؛ اپنی آمدنی بڑھانے، اخراجات منظم کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے سنجیدہ کوشش کرتے ہیں یا نہیں؛ اور قرض لینے سے پہلے یہ طے کرتے ہیں یا نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ اس کی قیمت اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے مقابلے میں مناسب ہے۔اگر ہم اپنے مالیاتی معاملات میں شفافیت پیدا کریں، معاشی طاقت کے ارتکاز کو سمجھیں، جائز نجی ملکیت کا تحفظ کرتے ہوئے عدل و انصاف کو یقینی بنائیں، اور قومی وسائل کو عام شہری کی ترقی سے جوڑ دیں تو بیرونی مالیاتی دبا سے نمٹنے کی ہماری صلاحیت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔لیکن اگر ہم اپنی اندرونی اصلاحات مخر کرتے رہیں، سیاسی اختلافات کو قومی ترجیحات پر غالب آنے دیں، غیر پیداواری اخراجات اور غیر مساوی مالیاتی نظام کو برقرار رکھیں، اور ہر مشکل کے حل کے لیے نئے قرض کا انتظار کرتے رہیں تو فیصلہ سازی کی گنجائش محدود ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔قومی خودمختاری کا اصل امتحان یہی ہے کہ ہم اپنے مالیاتی مستقبل کے بارے میں خود کتنی ذمہ داری سے فیصلے کر سکتے ہیں۔خدارا، قرض کو مستقل سہارا نہیں، عارضی ضرورت اور معاشی اصلاح کا ذریعہ بنائیے۔حکومت کی کامیابی صرف اس میں نہیں کہ اسے کتنا قرض مل گیا، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس نے قرض کی ضرورت کیوں محسوس کی، اسے کہاں استعمال کیا اور آئندہ قرض پر انحصار کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں نجی ملکیت محفوظ ہو، کاروبار کو ترقی کے مواقع ملیں، ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو، عوامی خزانہ امانت سمجھا جائے، دولت کے فوائد وسیع آبادی تک پہنچیں اور قومی بجٹ کی ترجیحات کا بنیادی معیار پاکستانی شہری کی فلاح ہو۔ہمیں اپنی تاریخ سے سبق لینا ہے، کسی نئی تاریخی مماثلت کا انتظار نہیں کرنا۔کیونکہ حقیقی آزادی صرف یہ نہیں کہ ہمارے فیصلے ہمارے اپنے نام سے جاری ہوں؛ حقیقی آزادی یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس وہ معاشی قوت، ادارہ جاتی صلاحیت اور اجتماعی بصیرت موجود ہو جن کی بنیاد پر ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں۔
خزانے پر اختیار کس کا؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
