بیجنگ(شِنہوا): چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تیسری سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح دوسری سہ ماہی کے 4.3 فیصد کے مقابلے میں زیادہ رہی، جبکہ رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران چینی معیشت میں مجموعی طور پر 4.6 فیصد اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین نے جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران تقریباً 107.11 ٹریلین یوآن (15.94 ٹریلین امریکی ڈالر) کی اقتصادی پیداوار حاصل کی۔
چین کی صنعتی پیداوار میں نو ماہ کے دوران 5.3 فیصد اضافہ
چین کی صنعتی پیداوار میں بھی رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق، جنوری سے ستمبر 2026 تک صنعتی شعبے کی اضافی قدر میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔
صنعتی پیداوار میں یہ پیش رفت چینی معیشت کے اہم شعبوں میں سرگرمیوں کے تسلسل اور صنعتی بنیادوں کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔
چین میں جدت پر مبنی سرمایہ کاری برقرار، مجموعی سرمایہ کاری میں کمی
چین میں جدت، جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی صورتحال نسبتاً مستحکم رہی، تاہم مجموعی مقررہ اثاثوں کی سرمایہ کاری میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق، رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران دانشورانہ ملکیت سے متعلق مصنوعات میں سرمایہ کاری میں سالانہ بنیادوں پر 9.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں سرمایہ کاری 4.9 فیصد بڑھی۔
مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کے مطابق، انفارمیشن سروسز کے شعبے میں سرمایہ کاری میں 20.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ایرو اسپیس آلات کی تیاری میں سرمایہ کاری 12.5 فیصد اور الیکٹرانک و مواصلاتی آلات کی تیاری میں 7.6 فیصد بڑھی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مجموعی سرمایہ کاری میں کمی کے باوجود جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل خدمات اور جدید صنعتی پیداوار سے وابستہ شعبے سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔
تاہم، جنوری سے ستمبر کے دوران چین میں مجموعی مقررہ اثاثوں کی سرمایہ کاری 7.2 فیصد کم ہو کر 33.41 ٹریلین یوآن (4.97 ٹریلین امریکی ڈالر) رہ گئی۔ اس کمی کی ایک اہم وجہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کا مسلسل سکڑاؤ ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی ترقی سے متعلق سرمایہ کاری کو نکال کر دیکھا جائے تو مجموعی مقررہ اثاثوں کی سرمایہ کاری میں 4.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
شعبہ وار اعداد و شمار کے مطابق، پہلے نو ماہ کے دوران بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری 4.2 فیصد، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 2.1 فیصد اور رئیل اسٹیٹ کی ترقی سے متعلق سرمایہ کاری 20.6 فیصد کم ہوئی۔ اسی عرصے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں 10.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرینِ معیشت کے لیے یہ اعداد و شمار چین کی اقتصادی ترقی کے دو اہم پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں: ایک جانب جی ڈی پی اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب رئیل اسٹیٹ اور مجموعی سرمایہ کاری کے شعبوں کو دباؤ کا سامنا ہے۔
چین کی معیشت میں تیسری سہ ماہی کے دوران 4.5 فیصد اضافہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
