اسلام آباد: تاجروں نے اسلام آباد انتظامیہ سے پلاسٹک کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری سرگرمیاں متاثر، ری سائیکلنگ کا شعبہ کمزور اور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ نے پہلے پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم اب ان کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے پولی ایتھلین ٹیرفتھالیٹ (پی ای ٹی) بوتلوں میں پیک مصنوعات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ تاجروں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاجروں کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے دفتر کی ہدایات کے بعد انہیں زبانی طور پر مختلف اقسام کی پی ای ٹی بوتلوں میں پیک مصنوعات کی فروخت روکنے کا کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دکانیں سیل کرنے سمیت پابندی پر عمل درآمد کی کارروائیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔
تاجروں نے خبردار کیا کہ پی ای ٹی بوتلوں پر مکمل پابندی سے کاروباری اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور بوتلیں جمع کرنے اور انہیں دوبارہ قابل استعمال بنانے کا موجودہ نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پلاسٹک کی قابلِ ری سائیکل پیکنگ پر پابندی لگانے کے بجائے پلاسٹک کے کچرے کو بہتر طریقے سے ٹھکانے لگانے پر توجہ دینی چاہیے۔
پی ای ٹی بوتلیں مشروبات اور دیگر مصنوعات کی پیکنگ کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ یہ وزن میں ہلکی، خوراک اور مشروبات کی پیکنگ کے لیے موزوں اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے قابل ہوتی ہیں۔ استعمال شدہ بوتلوں کی بھی تجارتی اہمیت ہے، جبکہ انہیں جمع کرنے، چھانٹنے اور ری سائیکل کرنے سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ای ٹی بوتلوں پر پابندی سے ری سائیکلنگ کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور اس شعبے سے وابستہ کارکنوں اور کاروباروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق پلاسٹک کی جگہ شیشے یا ایلومینیم کی پیکنگ استعمال کرنے سے لازماً ماحول کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے ماحولیاتی اثرات کا انحصار تیاری، نقل و حمل، جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کے طریقوں پر بھی ہوتا ہے۔
تاجروں کے مطابق پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے کے لیے کچرے کو الگ الگ جمع کرنا، اسے اٹھانے کا نظام بہتر بنانا، ری سائیکلنگ کی سہولتوں میں سرمایہ کاری اور مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے تعاون سے استعمال شدہ پیکنگ واپس جمع کرنے کے پروگرام شروع کرنا زیادہ مؤثر اقدامات ہیں۔
کاروباری برادری نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ پابندیاں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سنگل یوز پلاسٹکس (ممانعت) ریگولیشنز 2023 کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بھی پیکنگ کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے، کچرا جمع کرنے کے نظام کو بہتر کرنے اور مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کو استعمال شدہ پیکنگ کی واپسی اور تلفی کی ذمہ داری دینے پر زور دیا جاتا ہے۔
تاجروں نے اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور پی ای ٹی بوتلوں پر پابندی واپس لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متوازن پالیسی کے ذریعے ماحول کا تحفظ بھی ممکن ہے اور کاروبار پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر ری سائیکلنگ کے شعبے کو بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
