ہومبریکنگ نیوزپاکستان اور ملائیشیا کے درمیا ن تعلقات کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے،ہائی کمشنر

پاکستان اور ملائیشیا کے درمیا ن تعلقات کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے،ہائی کمشنر

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر ڈیٹو محمد اظہر بن مزلان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا اپنے دیرینہ برادرانہ اور سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان معیشت، تجارت، تعلیم، سیاحت، مصنوعی ذہانت اور حلال انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔وہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان 2019 میں اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ نیشنل پریس کلب آمد پر صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرقان را اور سینئر صحافیوں نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ صدر این پی سی عبدالرزاق سیال نے ہائی کمشنر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔

انہوں نے نیشنل پریس کلب کے دورے پر ملائیشین ہائی کمشنر کا شکریہ بھی ادا کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرقان را نے ہائی کمشنر کو پریس کلب کے انتظامی ڈھانچے، گورننگ باڈی کے کردار، ممبران کی فلاح و بہبود، کلب کی رکنیت اور دستیاب سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی۔ملائیشین ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان پام آئل کی درآمد کے حوالے سے ملائیشیا کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور پام آئل کی تجارت میں پاکستان ملائیشیا کے شراکت داروں میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی اور پورٹ قاسم میں پاکستانی اور ملائیشین کمپنیوں کے درمیان خوردنی تیل کی ریفائننگ کے مشترکہ منصوبے بھی جاری ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔ہائی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ملائیشیا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تعلیمی شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ڈیٹو محمد اظہر بن مزلان نے کہا کہ ملائیشیا کی یونیورسٹیوں میں تقریبا پانچ ہزار پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ دنیا بھر سے تقریبا دو لاکھ غیر ملکی طلبہ ملائیشیا میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ کو ملائیشیا میں تعلیم کے دوران برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں سے تسلیم شدہ ڈگریاں حاصل کرنے کے مواقع بھی میسر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

دفاعی شعبے میں تعاون کے حوالے سے ملائیشین ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی روابط مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی کمیٹی کے اجلاس اگلے دو روز کے دوران منعقد ہوں گے۔انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملائیشیا کے اسٹاف کالج میں 2001 میں تربیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دفاعی روابط کی ایک مثال ہے۔

ہائی کمشنر نے وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان قریبی تعلقات کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ دونوں رہنماں کے روابط دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ملائیشین ہائی کمشنر نے سعودی عرب کو ایک خودمختار ملک اور ملائیشیا کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے سعودی عرب پر حملے کی مذمت کی اور سعودی حکومت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد امن مفاہمت سمیت خطے میں امن کے قیام کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملائیشیا خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قبل ازیں ملائیشین ہائی کمشنر نے نیشنل پریس کلب کے لان میں پودا لگایا اور کلب کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر صدر این پی سی عبدالرزاق سیال، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرقان را، دیگر عہدیداران اور سینئر صحافی بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔