اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، معیشت کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورنر کی معاونت کے لیے غیر جانب دار ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ضیا)کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے وفد کو خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے طرز عمل اور دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرنے سے گریز کے باعث پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو خطرات لاحق تھے، وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات کا فیصلہ کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت نہیں کی اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے خیبرپختونخوا میں پاک افواج، سکیورٹی فورسز اور پولیس کے کئی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا اور مادر وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال میں پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے نہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور نہ ہی عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے، صرف انتشار کا راستہ اپنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے این ایف سی کے تحت 800 ارب روپے سے زائد فنڈز فراہم کیے۔شہباز شریف نے کہا کہ اس کے باوجود صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھانے اور سیف سٹیز کے قیام کے لیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ملاقات کے دوران اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی وفد نے موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی اور مشکل حالات میں ملک کی قیادت اور رہنمائی کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔وفد نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ 13 سال سے پی ٹی آئی حکومت کے دور میں صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ترقی سے محروم رہے۔وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کا سفر آگے بڑھے گا۔
پارلیمانی وفد میں بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر خالد مگسی، سابق چیئرمین سینیٹ و ایم پی اے صادق سنجرانی، سینیٹرز منظور کاکڑ، عبدالقادر بلوچ، دنیش کمار، ثمینہ ممتاز زہری اور سابق سینیٹر فدا محمد خان شامل تھے۔پاکستان مسلم لیگ (ق)کے صدر اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، اراکین قومی اسمبلی محمد الیاس چوہدری اور فرح خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر مملکت عون ثقلین عباس، اراکین قومی اسمبلی گل اصغر خان اور منزہ حسن جبکہ مسلم لیگ (ضیا)کے صدر اور رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق بھی وفد میں شامل تھے۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثنا اللہ بھی موجود تھے۔
اتحادی جماعتوں کی وزیراعظم سے ملاقات، خیبرپختونخوا بارے حکومتی فیصلوں کی حمایت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
