اسلام آباد(سب نیوز) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، جس کے لیے افغانستان کو کراس بارڈر دہشت گردی روکنا ہوگی۔وفاقی دارالحکومت میں انٹرنیشنل پارلیمنٹیرینز کانگریس کے زیراہتمام افغانستان کی صورتحال پر کانفرنس ہوئی، جس سے وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کا معاملہ اکیڈمک ڈسکشن سے زیادہ کچھ مانگتا ہے ۔
افغانستان میں امن و پاکستان میں امن دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن اور مستحکم افغانستان کی بات کی ہے۔ بطور وزیر داخلہ واضح طور پر کہتا ہوں کہ ہم دہشتگردی کا شکار ہیں، جو دہشتگردی افغانستان میں بیٹھ کر لوگ کر رہے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔وزیرمملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ادارے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں متعدد دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں۔ پاکستان افغان عوام کے ساتھ انسانی بنیادوں پر رشتہ رکھتا ہے، تاہم پاکستان ان عوامل کے خلاف ہے جو افغانستان سے ہمارے ملک میں دہشتگردی کرتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاک افغان بارڈر خطے کے امن کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ بارڈر سکیورٹی صرف ایک ملک کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں بڑھ رہی ہیں ، کراس بارڈر دہشتگردی بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان مہاجرین کو رکھا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ افغان حکومت میں تمام طبقات کی نمائندگی ضروری ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ مستقل ٹینشن نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔
