پشاور (آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کو بااختیار بنانے کے لیے اپنے قانون میں ترامیم کرکے اختیارات واپس صوبائی حکومت اور وزیراعلی کو دینے کے لیے پولیس ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔مجوزہ ترامیمی مسودے کے تحت پولیس کے اہم انتظامی اور پالیسی اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا کی تعیناتی سے لے کر اعلی پولیس افسران کے تبادلوں تک کے اختیارات وزیراعلی اور صوبائی حکومت کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ترامیم ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب خیبر پختونخوا حکومت اور پولیس قیادت کے درمیان 27 ستمبر کے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد مارچ کے معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔آئی جی خیبر پختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مارچ کے دوران سرکاری وسائل استعمال نہیں ہونے دیے جائیں گے، جس کے بعد صوبائی حکومت اور پولیس قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔آئی جی پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کو پہلے سے تحفظات تھے اور اب نئے ترامیمی مسودے میں آئی جی خیبر پختونخوا کی تعیناتی کو صوبائی حکومت کے اختیار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق آئی جی کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی، جبکہ آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت مطمئن نہ ہونے کی صورت میں ان کے تبادلے کے لیے وفاقی حکومت سے مزید نام طلب کیے جاسکیں گے۔ مجوزہ ناموں میں سے ایک نام کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی۔
مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز بطور آئی جی چارج سنبھالیں گے۔ڈی ایس پیز کی تعیناتی کا اختیار محکمہ داخلہ، ایس پیز سے ایڈیشنل آئی جیز تک کے اختیارات وزیراعلی کے پاس ہوں گے۔مجوزہ ترامیم کے تحت ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے کا اختیار بھی پولیس سے لے لیا جائے گا۔ جو اختیار پہلے آئی جی پولیس کے پاس تھا، اب واپس لے کر محکمہ داخلہ کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
جبکہ ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلی خیبر پختونخوا کریں گے۔ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کے اعلامیے وزیراعلی کی منظوری کے بعد محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔مجوزہ مسودے میں محکمہ پولیس کی تمام تعیناتیوں اور تبادلوں کا اختیار بھی صوبائی حکومت کو تفویض کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پولیس پالیسی بورڈ کی صدارت آئی جی خیبر پختونخوا سے لے کر وزیراعلی خیبر پختونخوا کو منتقل کرنے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق پولیس کی تمام آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیوں کی تشکیل کا اختیار وزیراعلی کے پاس ہوگا، جبکہ انتظامی امور سے متعلق تمام پالیسیاں صوبائی حکومت کے احکامات کے تابع ہوں گی۔مسودے میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ کسی بھی قانونی معاملے میں پولیس اپنا جواب براہِ راست جمع نہیں کرے گی، بلکہ محکمہ قانون اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر سے منظور شدہ جواب پولیس کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔خیبر پختونخوا کابینہ نے ترامیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جو اب منظوری کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی سے منظوری کے بعد اسے گورنر خیبر پختونخوا کے پاس بھیجا جائے گا اور گورنر کی منظوری کے بعد نیا قانون نافذ ہوگا۔
یاد رہے کہ جب سال 2013 میں پہلی بار خیبر پختونخوا میں حکومت آئی تو پولیس کو بااختیار بنانے کے لیے اہم قانون سازی کی گئی تھی اور تقرری اور تبادلے سے لے کر اہم اختیارات آئی جی پولیس کو دیے گئے تھے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت نہ کرنے کا عزم بھی کیا گیا تھا، جو اب پی ٹی آئی حکومت واپس کرنے جا رہی ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام نے ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت کو باقاعدہ اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ ان کے مطابق نئی ترامیم سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہوگی اور اسے سیاسی مداخلت اور دبا کا سامنا ہوگا۔
