اسلام آباد(سب نیوز)کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے کشمیر گارڈنز ایگرو فارمنگ اسکیم زون فور کے لے آوٹ پلان کی منظوری کے لیے مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کرانے پر لے آئوٹ پلان کی منظوری روک دی اور غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کا حکم دیا ہے ۔ سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل پلاننگ کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسکیم موضع پھگ، پنوال اور بھوکر، زون فور اسلام آبادمیں واقع ہے اور اتھارٹی کی جانب سے پہلے بھی متعدد مرتبہ مطلوبہ دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا، تاہم درخواست گزار مطلوبہ پیشگی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا۔
مراسلے کے مطابق سوسائٹی کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، میمورنڈم و آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن، ڈائریکٹرز/اسپانسرز کے شناختی کارڈز، مالی وسائل اور آڈٹ رپورٹ، فوکل پرسن کی تفصیلات، تازہ فرد و انتقالات، اراضی کی ملکیت و قبضے کا ثبوت، خسرہ گرداوری، نان انکمبریس سرٹیفکیٹ، کنٹور پلان پر عکسی شجرہ، تفصیلی لے آوٹ پلان کانسیپٹ رپورٹ سمیت دیگر دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔ سی ڈی اے نے لے آوٹ پلان کی جانچ پڑتال کی فیس 81لاکھ 14 ہزار 560 روپے مقرر کرتے ہوئے اسے پے آرڈر کی صورت میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ مطلوبہ دستاویزات مکمل طور پر فراہم کیے بغیر اسکیم کی منظوری کے معاملے میں مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔ سی ڈی اے نے قرار دیا کہ اسکیم میں لے آوٹ پلان کی منظوری اور اتھارٹی سے این او سی جاری ہونے سے قبل ہی ترقیاتی کام اور تعمیرات شروع کردی گئی ہیں، جو غیر قانونی اور غیر مجاز ہیں۔ مراسلے میں فوری طور پراشتہار، مارکیٹنگ، پلاٹوں کی خرید و فروخت، منتقلی اور الاٹمنٹ، لینڈ اسکیپنگ اور ترقیاتی کام بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سی ڈی اے نے متعلقہ اداروں کو بھی اسکیم کے حوالے سے قواعد و ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (انفورسمنٹ)سی ڈی اے اور ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول(ساوتھ)کو اسکیم میں تعمیر کیے گئے غیر قانونی کاموں، عمارتوں اور ڈھانچوں کے خلاف مسماری/خاتمے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سی ڈی اے نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو ہدایت کی ہے کہ اسکیم میں بجلی اور گیس کے سروس کنکشن صرف سی ڈی اے سے منظور شدہ لے آوٹ پلان اور منظور شدہ بلڈنگ پلان کی بنیاد پر فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر مذکورہ نوعیت کی نجی ہاوسنگ، فارم ہاوسنگ، عمودی رہائشی یا کمرشل اسکیموں کے اشتہارات شائع نہ کیے جائیں۔ سی ڈی اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، مجسٹریٹس اور دیگر حکام کو بھی اپنے قوانین اور عدالتی ہدایات کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کے لیے مراسلے کی نقول ارسال کردی ہیں۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مطلوبہ پیشگی دستاویزات فراہم نہ کی گئیں تو کشمیر گارڈنز ایگرو فارمنگ اسکیم کے لے آوٹ پلان کی منظوری کی موجودہ درخواست کو نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔



