اسلام آباد(آئی پی ایس )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کو بڑی فتح ملی ہے، گزشتہ ڈیڑھ، دو سال سے بھارت کے نصیب میں شکستیں لکھی ہوئی ہیں، چاہے وہ جنگ کا میدان ہو یا سفارتی محاذ، بھارت کو ہر جگہ ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مقف کی تائید ہونے کو بڑی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اب پاکستان کا مقف واضح اور حتمی ہے۔ جو کمیشن اس معاملے پر بیٹھا تھا، اس نے بہت واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک دونوں فریق کسی بات پر متفق نہ ہوں، سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ بنیادی اصول تھا جس کی بنیاد پر آج سے قریبا 65 برس پہلے یہ معاہدہ طے کیا گیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ان بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہے جو طویل عرصے سے قائم ہیں اور جن پر فریقین عمل کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ قریبا 65 سال سے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ برقرار رہا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے ان معاہدوں اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے اپ اسٹریم منصوبوں اور سہولیات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ جب وہ وزیر پانی و بجلی تھے تو انہیں یاد پڑتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہندوستان میں موجود اپ اسٹریم سہولیات کے حوالے سے قریبا سو، سوا سو دورے کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ ان دوروں کا مقصد یہ تھا کہ معاہدے کے تحت بننے والی اور موجود سہولیات کی نگرانی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کہیں کسی فریق کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی۔وزیر دفاع نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کے تمام معاملات کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک باقاعدہ نظام موجود رہا ہے اور معاہدے کے مینیجرز اس بات کی نگرانی کرتے رہے ہیں کہ اس کی کسی شق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
انہوں نے کہاکہ اب ہندوستان کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کا اندیشہ یا نیت سامنے آ رہی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایک واضح اور کھلا منظرنامہ پاکستان کے حق میں سامنے آیا ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ جیسا کہ وہ پہلے بھی عرض کر چکے ہیں، گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں پاکستان کے مقف کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح طور پر اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کا مقف کیا ہے اور ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔انہوں نے اسے بھی پاکستان کی بہت بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا اصولی مقف برقرار ہے اور اسے عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہاکہ تمام فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے پہلے سے ایک فریم ورک موجود ہے اور اسی فریم ورک کے تحت معاہدے پر عمل درآمد جاری رہے گا۔انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کے لیے جو فریم ورک پہلے سے موجود ہے، وہی آگے بھی چلتا رہے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے میں کوئی چیز تبدیل یا کسی شق میں ترمیم بھی کرنا ہوگی تو دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی اور مفاہمت کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے واضح کیاکہ کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے دونوں پارٹیوں کی باہمی رضامندی اور باہمی مفاہمت بنیادی شرط ہے۔واضح رہے کہ 2 روز قبل عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے، اور بھارت معاہدے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔
