اسلام آباد (سب نیوز)انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے زیراہتمام ایک روزہ بین الاقوامی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس منعقد ہوا ۔ جس میں پاکستان سمیت بین الاقوامی شخصیات اور سکالرز نے شرکت کی ۔ کانفرنس کی طرف سے تمام قائدین متفقہ اسلام آباد اعلامیہ برائے عالمی امن و ہم آہنگی پیش کیا ۔ جس کو تمام مذاہب کے رہنماوں سمیت جید علما اور سیاسی قائدین نے سائن کیا ۔ صوبائی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے اپنے خطاب میں اسلام آباد اعلامیہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی ہم آہنگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا ۔ سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح منفی تاثر کو ختم کرنا چاہیے اور اس میں مذہبی قائدین کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ اسلام آباد اعلامیہ اب پاکستان کا پیغام ثابت ہوگا ۔

سابق وفاقی وزیر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اہل مذہب کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہب کے روح اور فلسفے کو سمجھ کر تنازعات کا حل نکالے ، مذہبی یا نسلی امتیاز کی بنیاد پر تصادم کو روک پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر امن کرے ۔ یہ اعلامیہ اس اصول کی بنیاد پر ہے کہ سب سے اہم انسان ہے ۔ اور اسلام بھی تکریم انسانیت کا درس دیتی ہے ۔

کانفرنس میں پینل ڈسکشن میں جناب رشاد بخاری ، حافظ غلام مرتضی ، نازیہ انصاری ، شیرمجان کیلاشی ، مسیحی رہنما ہارون ارتھر ، مولانا عاصم مخدوم نے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی ، درپیش چیلنجز اور اسلام آباد اعلامیہ کے تناظر میں حل پر گفتگو کی۔ بیرون ملک سے تشریف لانے والے سکالر جناب کیلی جانسن نے مذہبی ہم آہنگی ، اقدار ، صبر ، برداشت اور بین المذاہب و بین الثقافت مکالمے کی اہمیت پر زور دیا ۔ جبکہ زمران جیمز صاحب نے نفرت اور تشدد کی خاتمے کیلئے حل تنازعات ، مذاکرات ، ہمدردی اور مکالمے پر زور دیا ۔

انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے سربراہ محمد اسرار مدنی نے کہا کہ متفقہ اعلامیہ پیغام پاکستان ، اعلان مراکش، اعلان عمان ، اعلان مکہ اور پوپ فرانسس و شیخ الازہر کا انسانی بھائی چارہ کا اعلامیے کے بعد اسلام آباد اعلامیہ برائے عالمی امن و ہم آہنگی ایک دلچسپ ڈاکومینٹ ہے جس میں اکیسویں صدی میں انسانی کو درپیش تمام مسائل کو ایڈریس کیا گیا ہے ۔ اب اس کو آگے ہر گلی ، ہر تعلیمی ادارے ، کانفرنس سیمینار سمیت بین الاقوامی فورمز پر لیجانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ تاکہ اسلام آباد کا یہ پیغام دنیا بھر میں امن و ہم آہنگی کا پہلا قطرہ ثابت ہوجائے ۔ کانفرنس میں جید علما کرام ، تھنک ٹینکس ، سول سوسائٹی تنظمیوں ، سیاسی رہنماں اور مختلف مسالک و مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی ۔بشری علی نے سیشن کو ماڈریٹ کیا ۔
