ہومتازہ ترینسی ڈی اے کی نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کو منظور شدہ لے آوٹ پلان نمایاں کرنے کی ہدایت

سی ڈی اے کی نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کو منظور شدہ لے آوٹ پلان نمایاں کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (سب نیوز)کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے اسلام آباد میں نجی ہاوسنگ سوسائٹیز اور منصوبوں کے منظور شدہ لے آوٹ پلانز عوام کے سامنے نمایاں کرنے کی ہدایت کردی۔سی ڈی اے پلاننگ ونگ کی جانب سے تمام نجی ہاوسنگ اسکیموں اور منصوبوں کے اسپانسرز کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ منظور شدہ لے آوٹ پلانز اپنی متعلقہ سرکاری ویب سائٹس پر اپ لوڈ اور باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیے جائیں۔

سی ڈی اے کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب)نے نشاندہی کی ہے کہ بعض ہاوسنگ منصوبوں کے اسپانسرز منظوری کی حیثیت درست طور پر ظاہر نہیں کر رہے اور منظور شدہ پلانز عوام کے سامنے پیش نہیں کیے جا رہے، جبکہ بعض مقامات پر پرانے یا غیر منظور شدہ پلانز دکھائے جا رہے ہیں، جس سے ممکنہ خریداروں کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ہدایت کے مطابق تمام ہاوسنگ سوسائٹیز اور منصوبے اپنے استقبالیہ اور بکنگ دفاتر میں منظور شدہ لے آوٹ پلان اور موجودہ اسٹیٹس نمایاں طور پر آویزاں کرینگے۔ ڈسپلے کم از کم 7 فٹ ضرب 5 فٹ کا ہوگا، جبکہ اس پر کیو آر کوڈ بھی درج کیا جائے گا جو متعلقہ منصوبے کی سرکاری ویب سائٹ سے منسلک ہوگا۔سی ڈی اے نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، عوامی مفاد کا تحفظ کرنا اور غیر قانونی یا غیر مجاز ہاوسنگ سرگرمیوں کی روک تھام ہے۔

مراسلے میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ہاوسنگ اسکیموں کے اسپانسرز اپنی ویب سائٹس پر زمین کی ملکیت، محل وقوع، منظور شدہ لے آوٹ پلان، این او سی، عوامی سہولیات، سی ڈی اے کے پاس رہن رکھے گئے پلاٹس اور رہائشی، کمرشل و امینٹی پلاٹس کی تفصیلات فراہم کریں اور ویب سائٹ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں۔سی ڈی اے نے مزید واضح کیا ہے کہ الاٹمنٹ لیٹرز کی معلومات ڈیجیٹل پلیٹ فارم یعنی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم یا ای آر پی کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جبکہ متعلقہ منصوبوں میں صرف منظور شدہ لے آوٹ یا بلڈنگ پلان میں شامل پلاٹس اور یونٹس ہی الاٹ یا منتقل کیے جا سکیں گے۔سی ڈی اے نے تمام نجی ہاوسنگ اسکیموں کے اسپانسرز کو نیب کی ہدایات اور لازمی ریگولیٹری تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے 10روز کے اندر شواہد پر مبنی کمپلائنس رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں معاملہ نیب کو بھجوایا جائے گا اور ضروری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔