بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملے جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے والے معاہدوں کے بعد لبنان پر ہونے والی سب سے ہلاکت خیز کارروائی قرار دیے جارہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جنوبی لبنان کے گاؤں انصار میں ایک گھر پر کیے گئے فضائی حملے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ دیر الزہرانی نامی علاقے میں ایک اور حملے کے نتیجے میں 4 افراد جان سے گئے اور 17 زخمی ہوئے۔
لبنانی حکام کے مطابق دونوں حملوں میں مجموعی طور پر 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی کارکنوں اور مقامی رہائشیوں نے حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کی کارروائیاں کیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک ’’واضح پیغام‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں براہ راست مذاکرات کا آٹھواں دور اگلے ماہ روم میں ہونے والا ہے۔
صدر جوزف عون کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملے اور جنگ بندی یا فریم ورک معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت بین الاقوامی قانون کے بھی خلاف ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے خطرناک کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصار میں جاں بحق ہونے والی خواتین اور بچے ’’فوجی اہداف‘‘ نہیں تھے اور نہ ہی جاں بحق افراد کو کسی فوجی تنصیب کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کا ’’مناسب جواب‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری رکھنے کے بجائے اپنا مؤقف سخت کرے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ اس کے حملے، خلاف ورزیاں اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششیں جاری نہیں رہ سکتیں اور انہیں مناسب جواب دیا جائے گا۔
حزب اللہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو داخلی سیاسی مقاصد کے لیے جنگ کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔
