اسلام آباد (ایڈیٹر انوسٹی گیشن)20کروڑ مالیت کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ ، فائلز بمعہ ریکارڈ ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا۔ سی ڈی اے کے ممبر محمد زمان وٹو کی جانب سے انکوائری کے بعد دس پلاٹس کی مبینہ طور پر غلط الاٹمنٹ کے ثبوت سامنے آئے تھے، یاد رہے اس کیس کو ماضی میں ایف آئی اے نے کلئیر کر کے بھیجوایا تھا
باوثوق ذرائع کے مطابق سیکٹر I/12-4 کے 10 پلاٹس محمد اسلم ولد سمندر خان کے وارثان کو پرمٹ کے باوجود الاٹ کیے گئے تھے تاہم ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو کی نشاندہی کے بعد تمام ریکارڈ ایک مرتبہ پھر ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسلم ولد سمندر خان، جو ڈھیری قلعہ کا رہائشی تھا، کو پہلے ہی ملتان کے چک نمبر 71 ایم ، تحصیل جلال پور پیروالا میں اراضی الاٹ کی جا چکی تھی۔
نوٹ شیٹ کے مطابق اس کے باوجود سیکٹر I-12/4 میں 10پلاٹوں کی بعد ازاں الاٹمنٹ عمل میں لائی گئی، جسے سی ڈی اے کے متعلقہ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر فراڈ پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق معاملہ 6 اکتوبر 2026 کو صبح 10 بجے سی ڈی اے افسران کے کردار کے تعین کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ متعلقہ ونگ سے ایک افسر بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے جو L&R ڈائریکٹوریٹ میں متعلقہ افسران کی تعیناتی کے ادوار کی نشاندہی کر سکے۔انکوائری میں اب یہ تعین کیا جائے گا کہ مذکورہ الاٹمنٹ کے عمل میں کون سے سی ڈی اے افسران تعینات تھے اور ان کا اس معاملے میں کیا کردار رہا۔یاد رہے درج بالا فائل ایف آئی اے میں بھی تحقیقات کے لیے بھیجوائی گئی تاہم فائدہ اٹھانے والے ڈیلرز نے وہاں سے بھی فائل کلئیر کر وا لی تھی تاہم ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو کی نشاندہی کے بعد تمام ریکارڈ ایک مرتبہ پھر ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا ہے۔
