ہومپاکستانپاکستان نے مقبوضہ گولان پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کا کولمبیا کا فیصلہ سختی سے مسترد کردیا، شدید احتجاج

پاکستان نے مقبوضہ گولان پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کا کولمبیا کا فیصلہ سختی سے مسترد کردیا، شدید احتجاج

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان نے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ گولان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حیثیت یکطرفہ فیصلے سے تبدیل نہیں کی جاسکتی اور کسی ریاست کی خودمختاری یا مقبوضہ علاقوں کی حیثیت بدلنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری سے متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد اور اسرائیل کے مقبوضہ عرب علاقوں سے مکمل انخلا کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔اسلام آباد نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی جبری قبضے کی خودمختاری تسلیم کرنے کے فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔پاکستان نے کہا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں بدستور شام کا مقبوضہ علاقہ ہیں اور کوئی یکطرفہ فیصلہ ان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا۔
کولمبیا نے یہ فیصلہ 10 اگست 2026 کو کیا اور وہ امریکا کے بعد اسرائیلی خودمختاری کو گولان پر تسلیم کرنے والا دوسرا اقوام متحدہ کا رکن ملک بن گیا ہے۔پاکستان نے واضح کیا کہ کسی ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے، قبضے کو جائز قرار دینے یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جانا چاہیے۔اسلام آباد کے مطابق ایسے اقدامات کا عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مثر اور دوٹوک جواب دینا چاہیے، بصورت دیگر یہ طرز عمل عالمی قوانین پر مبنی نظام کو مزید کمزور کرسکتا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ مذکورہ قرارداد اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ گولان پر اپنے قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ مسلط کرنے کو کالعدم اور بین الاقوامی قانونی اثر سے محروم قرار دیتی ہے۔اسلام آباد نے کہا ہے کہ یکطرفہ طور پر گولان پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنا نہ صرف متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے منافی ہے بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں امن و استحکام کے لیے بھی خطرناک رکاوٹ ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، پر زور دیا ہے کہ متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحفظ، استثنی کے خاتمے اور ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔اسلام آباد نے موقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی اور دیگر عرب علاقوں سے مکمل انخلا کے بغیر ممکن نہیں۔اسلام آباد کے مطابق ان مقبوضہ علاقوں میں شامی گولان کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔