ہومپاکستاناین سی آر سی اور پہچان کا پاکستان میں بچوں کے حقوق کے قوانین کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر مشاورتی اجلاس، کتاب کے پانچویں ایڈیشن کی رونمائی

این سی آر سی اور پہچان کا پاکستان میں بچوں کے حقوق کے قوانین کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر مشاورتی اجلاس، کتاب کے پانچویں ایڈیشن کی رونمائی

اسلام آباد(سب نیوز)نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی)نے پروٹیکشن اینڈ ہیلپ آف چلڈرن اگینسٹ ابیوز اینڈ نگلیکٹ(پہچان)کے اشتراک سے جمعہ کے روز پاکستان میں بچوں سے متعلق قانون سازی کے فریم ورک کو مزید مثر بنانے کے لیے ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس کے دوران پاکستانی قانون میں بچوں کے حقوق کے پانچویں ایڈیشن کی بھی رونمائی کی گئی۔این سی آر سی کے اسلام آباد دفتر میں منعقدہ اس مشاورتی اجلاس میں قانونی ماہرین، وکلا، محققین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بچوں سے متعلق پاکستان کے قانونی اور پالیسی فریم ورک میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا گیا، موجودہ قوانین پر موثر عملدرآمد میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ملک بھر میں قانونی تحفظات اور ان کے نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے این سی آر سی کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں اور پیشہ ور افراد کو قابلِ رسائی اور جامع قانونی وسائل فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی شائع ہونے والی یہ کتاب عدالتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور محققین کے لیے ایک اہم حوالہ جاتی دستاویز ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے متعلق قوانین کی افادیت صرف ان کی منظوری تک محدود نہیں بلکہ ان پر مثر عملدرآمد اور بچوں کو درپیش حقیقی مسائل سے ہم آہنگ ہونے میں مضمر ہے۔عائشہ رضا فاروق نے بتایا کہ این سی آر سی کے قانونی مینڈیٹ میں بچوں سے متعلق قوانین، پالیسیوں اور عملی اقدامات کا جائزہ لینا، بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا، ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور حکومت کو قانون سازی و پالیسی اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کرنا شامل ہے۔مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پہچان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نعیم ظفر نے کہا کہ مختلف اداروں، خاندانوں اور پیشہ ور افراد کو اکثر بچوں کے لیے دستیاب قانونی تحفظات کی درست شناخت اور ان پر عملدرآمد میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانونی تحفظات اسی وقت مثر ثابت ہو سکتے ہیں جب والدین، سرپرست، متعلقہ پیشہ ور افراد اور ادارے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور انہیں مثر ریفرل نظام، قانونی معاونت اور بروقت ادارہ جاتی ردعمل میسر ہو۔اجلاس کے دوران ڈاکٹر مہک نعیم، مقداد مہدی اور احمر مجید نے پاکستانی قانون میں بچوں کے حقوق کے پانچویں ایڈیشن کی اہم نکات پر مبنی پریزنٹیشن پیش کی۔ اس اشاعت میں وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے متعلق تمام اہم قوانین کو یکجا کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال کے تحت پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں کی روشنی میں ملکی قانونی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا ہے۔

شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ صرف بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی موجودگی ان کی سلامتی اور فلاح و بہبود کی ضمانت نہیں دیتی، بلکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ان قوانین پر موثر اور یکساں عملدرآمد ناگزیر ہے، خصوصا ان شعبوں میں جہاں ذمہ داریوں، نفاذ کے طریقہ کار اور قانونی دفعات میں عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔اجلاس کے اختتامی سیشن میں عدالتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بچوں کے تحفظ کے اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان موثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکا نے بچوں سے متعلق مختلف قوانین میں عمر کی تعریف کو یکساں بنانے، قواعد و ضوابط کی بروقت تیاری، وسائل میں اضافے، فرنٹ لائن پیشہ ور افراد کی استعداد کار بڑھانے، ریفرل نظام کو موثر بنانے اور قانون سازی اور بچوں کی عملی زندگی کے درمیان موجود خلا کی مسلسل نگرانی کی بھی سفارش کی۔تقریب کے اختتام پر پاکستانی قانون میں بچوں کے حقوق کے پانچویں ایڈیشن کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ منتظمین کے مطابق یہ اشاعت قانونی جائزے، پیشہ ورانہ تربیت، ادارہ جاتی اصلاحات، تحقیق اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وکالت کے شعبوں میں ایک اہم حوالہ جاتی دستاویز کے طور پر استعمال ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔