ہومکالم وبلاگزمفاد سے ماورا دوستی

مفاد سے ماورا دوستی

تحریر: محمد محسن اقبال


زمانۂ قدیم کی خاموش مگر گہری دانائی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دوستی محض خوش اخلاقی کے چند رسمی جملوں یا وقتی مفاہمتوں کا نام نہیں۔ یہ سہولت اور مصلحت کی بنیاد پر قائم ہونے والا کوئی عارضی بندھن بھی نہیں، بلکہ دل کی ایک ایسی کیفیت ہے جس سے ایک گہرا، مضبوط اور پائیدار تعلق جنم لیتا ہے اور وقت کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔ حقیقی دوستی اپنی اصل میں ہر قسم کے ذاتی مفاد اور مادی منفعت سے بلند ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد ایثار، اخلاص اور بے غرضی پر استوار ہوتی ہے، جہاں لالچ، خود غرضی اور وقتی فائدے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔


عظیم پنجابی صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخشؒ نے اس ازلی حقیقت کو نہایت دل نشیں انداز میں یوں بیان کیا ہے
“دنیا تے جو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے،
ایس بے دردی یار دے کولوں بہتر یار اکیلے”

یعنی اگر کوئی دوست زندگی کی خوشیوں اور آزمائشوں میں آپ کا سہارا نہ بن سکے تو ایسی بے مروّت رفاقت سے تنہائی کہیں بہتر ہے، کیونکہ آسودگی کے دنوں میں تو ہر شخص رفاقت کا دعوے دار بن جاتا ہے، مگر اصل دوست وہی ہے جو مصیبت کی گھڑی میں بھی ساتھ نبھائے۔


بدقسمتی سے ہمارے عہد میں دوستی کے معیار میں ایک تشویش ناک تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ وہ پاکیزہ جذبہ، جو کبھی بے لوث محبت، وفاداری اور قربانی کی علامت تھا، اب اکثر مصلحتوں، مفادات اور وقتی ضرورتوں کے دبیز پردوں میں اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ جو رشتہ کبھی اعتماد اور وفا کی مضبوط بنیاد پر قائم ہوتا تھا، وہ بہت سی جگہوں پر لین دین اور فائدے کے حساب کتاب تک محدود ہو چکا ہے۔ تاہم اس عمومی تبدیلی کے باوجود کچھ شخصی اور بین الاقوامی تعلقات آج بھی اخلاص، ثابت قدمی اور اعتماد کی روشن مثال بنے ہوئے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچی دوستی زمانے کی بدلتی ہوئی ترجیحات سے بالاتر ہو کر بھی زندہ رہ سکتی ہے۔ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی اسی ابدی حقیقت کی ایک روشن اور قابلِ فخر مثال ہے۔


یہ تعلق، جو تنگ نظر مفادات کے بجائے باہمی اعتماد، احترام اور خیرسگالی پر استوار ہے، عوامی جمہوریہ چین کے قیام یکم اکتوبر 1949ء کے بعد سے مسلسل مضبوط ہوتا آیا ہے۔ سفارتی تعلقات کے ابتدائی مراحل سے لے کر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کی چین کی مخلصانہ حمایت تک، دونوں ممالک نے عالمی سیاست کی بے شمار تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ہے۔ دنیا کے دشوار گزار ترین پہاڑی سلسلوں کو چیرتی ہوئی شاہراہِ قراقرم آج بھی اس عزم، اعتماد اور مشترکہ جدوجہد کی ایک عظیم یادگار کے طور پر کھڑی ہے۔


وقت گزرنے کے ساتھ یہ دوستی مزید وسعت اختیار کرتی گئی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے عظیم منصوبے کی صورت میں نئی جہتیں حاصل کیں۔ گوادر کی نیلگوں لہروں سے لے کر جے ایف تھنڈر طیاروں کی جدید ٹیکنالوجی تک، اس شراکت داری نے تجارت، بنیادی ڈھانچے، دفاع، سلامتی، تعلیم، ثقافت اور صنعتی ترقی سمیت بے شمار شعبوں میں اپنی خوشگوار چھاپ چھوڑی ہے، جبکہ اس کی بنیاد ہمیشہ اعتماد، خیرخواہی اور باہمی احترام ہی رہی ہے۔
آج جب دنیا حیرت انگیز رفتار سے تبدیلیوں کے سفر پر گامزن ہے، پاکستان اور چین کی یہی آزمودہ دوستی صحت اور طب کے نہایت اہم شعبے میں بھی ایک نئے باب کا آغاز کر رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری دو روزہ پاکستان۔چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2026ء کا انعقاد اسی دیرینہ تعلق کا ایک اور سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل ، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے مشترکہ اشتراک سے منعقد ہونے والی یہ دو روزہ کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے وا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔


اس کانفرنس کو ایک اعلیٰ معیار کے کاروباری پلیٹ فارم کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جہاں پاکستان کی ممتاز دوا ساز، صحت اور بایوٹیکنالوجی کمپنیوں کا رابطہ چین کے سرکردہ سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور طبی ماہرین سے ہوگا۔ شرکاء کے درمیان منظم کاروباری ملاقاتیں، بامقصد تبادلۂ خیال اور سرمایہ کاری سے متعلق خصوصی نشستیں منعقد ہوں گی، جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، مشترکہ تحقیق اور مقامی سطح پر جدید ادویات کی تیاری جیسے عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ چین کی فارماسیوٹیکل تحقیق، صنعتی مہارت اور جدید طبی نظام سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے صحت کے شعبے کو ایک نئی قوت اور سمت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔


منتظمین کے مطابق یہ کانفرنس اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے اس پختہ عزم کا مظہر ہے کہ معیاری غیر ملکی سرمایہ کاری کو پاکستان کی جانب راغب کیا جائے اور صنعتی ترقی کے لیے ایک پائیدار ماحول تشکیل دیا جائے۔ فوری تجارتی فوائد سے آگے بڑھ کر یہ اجتماع پاکستان کے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ملکی دوا ساز صنعت کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یوں یہ کاوش صرف اقتصادی ترقی ہی نہیں بلکہ دونوں اقوام کی مشترکہ خوشحالی، انسانی فلاح اور بہتر معیارِ زندگی کی جانب بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔


جب اسلام آباد میں اس کانفرنس کے شرکاء ایک چھت تلے جمع ہوں گے تو یہ احساس خودبخود دل میں ابھرے گا کہ یہ محض سرمایہ کاری یا تجارت کا ایک رسمی اجتماع نہیں، بلکہ اس دوستی کا فطری اظہار ہے جس نے ہمیشہ وقتی مفادات پر باہمی اعتماد، اخلاص اور مشترکہ ترقی کو ترجیح دی ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا کے بیشتر تعلقات مصلحتوں کے ترازو میں تولے جاتے ہیں، پاکستان اور چین کی دوستی آج بھی یہ پیغام دیتی ہے کہ اعتماد، وفاداری اور مستقل مزاجی پر استوار رفاقت وقت کی ہر آزمائش سے سرخرو ہو کر ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کرتی ہے۔ شاہراہِ قراقرم کی فلک بوس چوٹیوں سے لے کر طب اور سائنسی تحقیق کی نئی سرحدوں تک، یہ لازوال رشتہ اس حقیقت کا درخشاں ثبوت ہے کہ جب دو قومیں اخلاص اور خیرسگالی کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو ترقی کی کوئی منزل ان کے لیے دور نہیں رہتی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔