ہومتازہ ترینمحمود احمدی نژاد اسرائیل کے مبینہ رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

محمود احمدی نژاد اسرائیل کے مبینہ رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران میں اسرائیل کے رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے۔
نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کے کئی سالوں پر محیط منصوبے کے تحت اسرائیل نے احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کی حالانکہ سابق صدر کے طور پر ان کی شہرت اسرائیل مخالف اور ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والے ایرانی رہنما کی تھی۔
محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور اس دوران انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر سخت تنقید کی اور ایران نے جوہری پروگرام پر بھی پیشرفت کی، موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا خود احمدی نژاد کو اقتدار دلانے کی کوششوں کی نگرانی کر رہے تھے۔


ہنگری نے احمدی نژاد کو 2024 میں بڈاپسٹ موسمیاتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تاکہ موساد کے سربراہ کو ملاقات کا موقع فراہم کیا جاسکے۔
کانفرنس میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے احمدی نژاد سے ملاقات بھی کی، اسرائیل نے احمدی نژاد کی رہائش اور سفر کے اخراجات بھی ادا کئے، اس کے علاوہ بھی اسرائیلی اہلکاروں نے بیرون ملک کئی مواقع پر ان سے ملاقاتیں کیں، فروری میں امریکا اور اسرائیل نے انہیں نظربندی سے آزاد کرانے کی کوشش بھی کی۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کی الگ رپورٹ کے مطابق رجیم چینج کا موساد کا یہ منصوبہ 2022 میں شروع ہوا اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ کے باعث یہ منصوبہ کچھ عرصے کے لئے متاثر ہوا لیکن غزہ جنگ کے عروج کے دوران اسے مزید تیز کر دیا گیا۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی موساد کے سابق چیف نے احمدی نژاد سے جنگ سے کچھ روز قبل ملاقات بھی کی تھی۔ بعد ازاں دوران جنگ احمدی نژاد کی ایک موقع پر جان لینے کا ڈرامہ کیا گیا مگر حقیقتاً ان کی جان بچائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شراکت دار اسرائیل نے ایران میں رجیم تبدیلی کے لیے احمدی نژاد کو تیار کرنے کی کوششیں کی تھیِ۔ احمدی نژاد کئی سال قبل ایرانی صدارت پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں آگے لانے کے لیے ایک موزونیت یہ بھی تھی کہ اسرائیل نے ان پر کئی سال تک کام کیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنی یہ رپورٹ امریکہ اور اسرائیل کے ان ذرائع کی مدد سے مرتب کی ہے جو رجیم تبدیلی کے آپریشن کے قریب تر تھے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے احمدی نژاد کے ساتھ رابطے استوار کر رکھے تھے۔ ان میں بڈاپسٹ ہنگری میں احمدی نژاد کی 2024 اور 2025 میں ہونے والے دورے کی ملاقاتیں بھی کارآمد سمجھی گئی تھیں۔ یہ ملاقاتیں اسرائیلی ایجنٹوں نے تعلیمی کانفرنسوں کی آڑ میں کی تھیں۔

یاد رہے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے حکومتی عہدے داروں ، اپوزیشن رہنماؤں، ماہرین اورسماجی و مذہبی شخصیات کو تعلیمی ، ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی کی کانفرنسوں میں یورپ اور امریکہ میں باہم مل بیٹھے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اسی طرح کی کانفرنسیں بعض دیگر مقاصد کی تکمیل کا بھی ذریعہ بن جاتی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی ایسی ہی تعلیمی کانفرنسوں کے نام پر احمدی نژاد کی شرکت کے مواقع پر اسرائیلی ایجنٹوں کے استعمال کرنے کا ذکر کیا ہے۔
اخبار کے مطابق ہنگری میں موساد کے اس وقت کے سربراہ ڈیوڈ بارنا نے ان تعلیمی موضوعات پر ہونے والی کانفرنس کے دوران ملاقات کی۔ ان کے علاوہ بھی لوگ ملے، یہ ملاقاتیں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہوئی تھیں۔ یہ کوششیں فروری کے اواخر تک کافی آگے بڑھ چکی تھیں۔ خیال رہے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی راہ 28 فروری کو ہموار تھی۔ اور احمدی نژاد ایران میں رجیم تبدیلی کے بڑے آپریشن میں استعمال کرنے کے لیے اسرائیلی کوششوں میں اہم ہو چکے تھے۔ لیکن رجیم تبدیلی کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ 28 فروری کو شروع کی گئی جنگ کے دوران ایک روز احمدی نژاد کی رہاش کو بھی بمباری سے تباہ کرنے کا منصوبہ اسی منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ اس بمباری سے قبل احمدی نژاد کو اطلاع کر کے محفوظ جگہ بھی فراہم کر دی گئی تھی۔ لیکن اس کے بعد احمدی نژاد کو سیف ہاؤس میں ایرانی رجیم نے منتقل کر دیا ، مگر کیا وجہ بنی اس بارے میں حالات واضح نہ ہو سکے۔
تب سے اب تک احمدی نژاد کہیں بھی عوامی منظر پر دیکھے گئے نہ سنے گئے، البتہ مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر انہیں عوام میں دیکھا گیا کہ وہ جنازے کے اس جلوس میں شامل تھے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکام کا خیال ہے کہ احمدی نژاد اب پاسداران انقلاب کور کی انٹیلی جنس کی حراست میں ہیں۔ یہ حراست ان کے اسرائیلی اداروں سے رابطوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ احمدی نژاد کو متبادل لیڈر کے طور پر آگے لانے کی ان کوششوں کے بارے میں اسرائیلی حکام نے نیویارک ٹائم کے رابطے کے باوجود تبصرہ نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب احمدی نژاد کے ترجمان نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔