ہومبریکنگ نیوزعلی امین گنڈاپور اپنی حکومت پر برس پڑے، بلیو پاسپورٹ اور مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں

علی امین گنڈاپور اپنی حکومت پر برس پڑے، بلیو پاسپورٹ اور مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں

پشاور(آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنی جماعت کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلیو پاسپورٹ اور دیگر مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا۔علی امین گنڈاپور نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور حالیہ اراکینِ اسمبلی کی مراعات میں اضافے پر سوالات اٹھا دیے۔ علی امین گنڈاپور کی تنقید پر مبنی ایک مبینہ آڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جب اراکینِ اسمبلی کے استحقاق اور مراعات میں اضافے پر صوبائی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

5 سے 6 منٹ دورانیے کا یہ آڈیو پیغام علی امین گنڈاپور نے پارٹی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی تھi، جو وہاں سے لیک ہو کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گi۔ اس آڈیو میں وہ کھل کر بول رہے ہیں اور ان اراکین کے نام سامنے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو مراعات میں اضافہ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے یہ عمران خان کا وژن نہیں ہے۔ ان اراکینِ اسمبلی کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں جنہوں نے اپنی مراعات بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلحہ لائسنس، بلیو پاسپورٹ اور دیگر مراعات مانگنے والوں کے نام بھی پبلک کیے جائیں تاکہ عوام انہیں جان سکیں۔

وہ آڈیو میں کہتے ہیں کہ بجٹ کے دوران اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز کی بھی انہوں نے مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ تنخواہیں کم ہیں، لیکن اضافے سے پی ٹی آئی پر تنقید ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں اراکین کی تنخواہوں میں اضافے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

علی امین نے اپنے آڈیو پیغام میں مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بھی بات کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ معمولی فائدوں کے لیے پارٹی، قائد اور عمران خان کے وژن کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے صوبے میں ترقیاتی کاموں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ علی امین نے کہا کہ عوامی منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور ذاتی مفادات اور مراعات سے گریز کیا جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔