اسلام آباد (آئی پی ایس سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے 11.4 ارب روپے کے منصوبے کا ٹھیکہ دینے کے عمل کو مزید آگے بڑھا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے کو شارٹ لسٹ کی گئی دونوں مشترکہ کمپنیوں کی جانب سے نظرثانی شدہ ڈیزائن اور اضافی مالیاتی بولیاں موصول ہوچکی ہیں۔ تکنیکی ٹیم ان ڈیزائنز کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے بعد اضافی بولیاں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ای-پیڈ پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں گی۔ اس کے ایک ہفتے بعد مالیاتی بولیاں کھول دی جائیں گی۔
مجوزہ اسٹیڈیم سیکٹر ڈی-12 کے قریب مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں سے تماشائیوں کو مارگلہ ہلز کا خوبصورت منظر بھی دکھائی دے گا۔ اسٹیڈیم میں تقریبا 32 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ عوام کے لیے تقریبا ایک کلومیٹر فاصلے پر 10 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ بھی قائم کی جائے گی۔سی ڈی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس منصوبے کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کے طرز پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت جڑواں شہروں میں بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی میزبانی کے لیے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم ہی واحد میدان ہے۔
اس منصوبے کے لیے دو مشترکہ کمپنیوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، جن میں حبیب کنسٹرکشن اور زیڈ کے بی-ای اے کا مشترکہ منصوبہ، جبکہ دوسری جانب لیمار بلڈرز اور بی کے کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔یہ منصوبہ انجینئرنگ، خریداری اور تعمیر (ای پی سی) ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت کمپنیوں نے اپنے تکنیکی ڈیزائنز کے ساتھ مالیاتی تجاویز بھی جمع کرائی ہیں۔ اب نظرثانی شدہ ڈیزائنز اور اضافی بولیوں کی جانچ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اسٹیڈیم تقریبا 50 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا، جو مجوزہ اولمپک ولیج کے 175 ایکڑ رقبے کا حصہ ہے۔ تاہم تجارتی سہولیات اور ہوٹل کی تعمیر جیسے ضمنی منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت سے منظوری درکار ہوگی۔یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے شکرپڑیاں میں بھی کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر شروع کی تھی، تاہم سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد وہ منصوبہ ترک کردیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بار سی ڈی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے سنجیدہ ہیں۔ چونکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سی ڈی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ دونوں کے امور کی نگرانی کر رہے ہیں، اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ اسٹیڈیم کا منصوبہ تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔
