ہومکالم وبلاگزغلامی کی زنجیریں

غلامی کی زنجیریں

تحریر: جاوید انتظار


اللہ رب العزت نے انسان کو جبلت میں آزادی رکھی ہے۔ اللہ کا نظام مکمل جبکہ انسان کا نظام خامیوں بھرا ہے۔ اللہ کا نظام رنگ نسل ، فرقہ ، مذہب سے بالاتر ہو کر انصاف پر مبنی ہے۔ اللہ کا نظام انسان کو ذات کی قید سے آزادی دیتا ہے ۔ لیکن دو طرح کے انسان ہوتے ہیں ۔ ایک انسان دنیا پرست اور ایک انسان دنیا دار ہوتا ہے۔ دنیا پرست دراصل ذہنی غلامی کی زنجیروں کا قیدی ہوتا ہے۔ جبکہ دنیا دار ذہنی آزادی کا عملدار ہوتا ہے. ذہنی غلامی کی زنجیریں اپنی اصل سے دوری کیوجہ سے انسان کو جکڑ لیتی ہیں۔ ہماری اصل قرآن اور سنت ہے۔ جب ان سے دوری ہو تو انسان دنیا پرست ہو کر دنیا کی رنگینیوں کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔ لیکن وہ خود کو آزاد تصور کرتا ہے ۔ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک دفعہ ایک خاتون چار پانچ کلو میٹر کا پیدل راستہ کاٹنے کے بعد آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ راستہ ریتلا تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ وہ پسینے سے شرابور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے نو دس سالہ بیٹے کے ساتھ حاضر ہوئی ۔ عرض کیا کہ میرا بیٹا گڑ کھاتا ہے اسے منع فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ اسے کل لے ائیں۔ اگلے روز شدید گرمی اور ریتلے راستے پر پیدل چل کر ائی۔ آنحضرت نے اسکے نو دس سالہ بچے کو گڑ کھانے سے منع فرمایا۔ اس خاتون نے عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ بات تو آپ کل بھی کرسکتے تھے۔ میں شدید گرمی میں ریتلے راستے پر گھر کے کام کاج چھوڑ کر پسینے میں شرابور کل آئی تھی۔ آپ یہی بات کل بھی کر سکتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں نے گڑ کھایا ہوا تھا اس لئے منع نہیں کیا۔ یہ ہے وہ اصل جس سے آج ہم بہت دور ہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتے تھے وہ کہتے تھے۔ آج ہر شعبہ زندگی کے لوگ جو کرتے ہیں کہتے نہیں۔ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ رویہ کے اس دوہرے معیار نے انسان کو ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضہ عنہا کو جب خلیفہ بنایا جانے لگا ۔ تو ان سے خلیفہ کا وظیفہ پوچھا گیا۔ جسے آج کے دور میں تنخواہ اور سہولیات کہا جاتا ہے ۔ جس میں گاڑیاں جہاز ہیلی کاپٹر پٹرول اور پروٹول سمیت تنخواہ شامل ہوتی ہے۔ خلیفہ اول کے دور میں گندم، جو، گھوڑا اور ایک ملازم دے دیا جاتا تھا۔ خیر خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق نے کہا کہ میرا وظیفہ ایک مزدور کی اجرت کے برابر طے کردیا جائے۔ کہا گیا یہ تو بہت کم ہے۔ خلیفہ اول نے کہا کہ پھر مزدور کی اجرت بڑھا دی جائے ۔ خیر گفت و شنید اور باہمی مشاورت کے بعد خلیفہ اول کا وظیفہ طے کردیا گیا۔ ایک روز خلیقہ گھر گئے تو خاتون خانہ نے کہا کہ میرا جو کا حلوہ کھانے کا بہت دل ہے۔ آج کل سربراہ کی خاتون خانہ کو خاتون اول کہا جاتا ہے۔ خلیفہ نے کہا کہ مجھے جو وظیفہ ملتا ہے اس میں جو کا حلوہ نہیں بن سکتا۔ چودہ سو سال پہلے جو کا حلوہ وی آئی پی سویٹ ڈش ہوا کرتی تھی۔ خیر اب تو سویٹ ڈش میں بے حساب ڈشز شامل ہیں۔ کچھ دن گزر گئے خلیقہ اول اپنے گھر آئے تو جو کے حلوے کی خوشبو آئی ۔ خلیقہ نے حیرانگی سے اپنی بیوی سے پوچھا میرے گھر جو کا حلوہ کیسے بن گیا۔مجھے تو اتنا وظیفہ ملتا ہی نہیں۔ خاتون اول نے کہا کہ وظیفہ میں جتنی جو ملتی ہے۔ میں روزانہ اس میں سے تھوڑی تھوڑی بچائی ۔ جو اتنی ہو گئی کہ جو کا حلوہ بن گیا۔ خلیفہ نے قومی خزانے سے اتنی جو کم کروا دی۔ اور کہا کہ میرا مزدور بھوکا مرے اور میں حلوہ کھاتا پھروں۔ یہ وہ انصاف تھا جو حکمران کو ذات کی قید سے آزاد کرتا تھا۔ اختیارات کا ناجائز استعمال نہ تھا۔ مگر آج پنجاب اسمبلی میں مریم اورنگزیب بڑے حاکمانہ لہجے میں کہتی ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے جہاز خریدا،ہیں بھائی خریدا ہے، جو کرنا ہے کر لو۔ نظام کے سامنے جوابدہی کی بجائے ریاستی بدمعاشی اور اختیارات کے نا جائز استعمال نے عقل ماؤ ف کر دی ہے ،ایمان کمزور کر دیاہے۔ دنیا کی سہولیات کے لئے خوف خدا کی فکر ہی نہیں۔ جب معاشرے اور حکمران طبقے سے خوف خدا اٹھ جائے تو دنیا پرستی اسے ذہنی غلامی اور ظلم کرنےکی زنجیروں میں قید کر لیتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں ہم آزاد ہیں ۔
خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضہ اللہ عنہا نے ایک شخص کو کسی صوبے کا گورنر مقرر کرنا تھا۔ اسے بنیادی بات چیت کے لئے بلایا۔ وہ دور کرسی ٹیبل کا نہیں تھا۔ ایسے فیصلے مسجد کے احاطے( صحن) میں بیٹھکر کر دئے جاتے تھے۔ وہ شخص آیا سامنے بیٹھا۔ مسجد کا دروازہ کھلا تھا ۔ ایک تین سے چار کا بچہ دوڑتا ہوا اندر آیا ۔ خلیفہ نے بچے کو گلے لگایا پیار کیا۔ وہ بچہ اسی برق رفتاری سے اس شخص کیطرف گیا۔ وہ بھی گلے لگاتا اور پیار کرتا بچہ دوڑتا ہوا باہر چلا جاتا۔ لیکن اس شخص نے بچے کو ہاتھ سے روک دیا ۔ چونکہ بچے کا مشاہدہ فطری طور پر بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ وہ سمجھ گیا اور دوڑ کر مسجد سے باہر چلا گیا۔ خلیفہ دوئم نے بڑی باریک بینی سے احاطہ کرتے ہوئے اس شخص سے پوچھا کہ آپ کو بچوں سے پیار نہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھے بچے اچھے نہیں لگتے ۔ خلیفہ نے اس شخص کو اس لئے گورنر نہیں بنایا کہ جس شخص میں صلہ رحمی نہیں ۔ اس کو اتنا بڑا عہدہ دے دوں ۔ یہ تھا وہ تقرری کا معیار جو انسان کو ذہنی غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلاتا ہے۔ لیکن آج اختیارات کا غلط استعمال رشوت ، سفارش اور حق تلفی کیوجہ سے انسان کو ذہنی غلام بنا دیتا ہے۔
جب صحیح کام کرنے کے لئے غلط راستہ اختیار کیا جائے۔ تو ایک وقت آتا ہے وہ انسان کے گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے ہمیں اپنی اصل کیطرف لوٹنا ہوگا۔ اختیار کو اللہ کی امانت سمجھکر انسانی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا ۔ قرآن اور حیات طیبہ سے روشنی لے کر زندگی گزارنا ہوگی۔ سوچ بدل گئی تو سب کچھ بدل جائے گا ۔ پاکستان بدل جائے گا۔ بصورت دیگر دن بدن ظلم، نا انصافی، ریاسی جبر و تسلط سے ملک و معاشرہ تباہی و بربادی کیطرف بڑھتا جائے گا۔ اختیارات کا ناجائز استعمال کرپشن کی ماں ہے۔ برے کو مارنے کی بجائے برے کی ماں کا مارنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔