تحریر: محمد محسن اقبال
تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کو اقوامِ عالم میں عزت و توقیر کا کوئی نیا مقام نصیب ہوتا ہے یا یہ وطنِ عزیز اپنے مسائل و مصائب کے بوجھ تلے کچھ لمحوں کے لیے سکھ کا سانس لیتا ہے، عین اسی وقت دہشت گردی کے سیاہ بادل اس کے افق پر منڈلانے لگتے ہیں۔ امن و امان کے وہ بہادر محافظ، جو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر وطن کی سرحدوں، شہروں اور عوام کی حفاظت کرتے ہیں، اکثر انہی مذموم حملوں کا پہلا نشانہ بنتے ہیں۔ بھارت اور اس کے بیرونی سرپرست ہمیشہ ایسے مواقع کی تاک میں رہتے ہیں تاکہ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کریں، قومی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں اور اس خودمختار ریاست کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل سکیں۔ ایک عرصے سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ بھارتی عزائم، افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں اور اسرائیل کی جانب سے علیحدگی پسند عناصر کی مبینہ معاونت کے درمیان ایک گہرا اور منظم گٹھ جوڑ موجود ہے، جس کا مقصد پورے خطے میں انتشار کو ہوا دینا ہے۔
قدرت نے حالیہ دنوں پاکستان کو ایک ایسا باوقار سفارتی کردار عطا کیا جس نے اس کی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کر دیا۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نازک مرحلے پر پاکستان نے اعتماد کے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت اور مکالمے کی راہ ہموار کی۔ یہ سفارتی کامیابی، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا، نئی دہلی کے بعض حلقوں کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی۔ پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ہضم نہ کر سکنے والوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی روش اختیار کرتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو متحرک کیا جو افغان سرزمین سے طاقت حاصل کرتے ہیں اور بیرونی قوتوں، خصوصاً شورش پسند عناصر کی مبینہ سرپرستی کرنے والوں، کے مفادات سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
اپنے انہی ایجنٹوں اور پراکسی گروہوں کے ذریعے انہوں نے پاکستان کے معاشی مرکز کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک اور بزدلانہ سازش کی۔ 27 جون کی شام، بھاری اسلحے سے لیس دہشت گردوں کے ایک گروہ نے سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔ کارروائی کا آغاز ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا کر کیا، جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکے نے علاقے کا سکون تہہ و بالا کر دیا۔ اس کے فوراً بعد مسلح دہشت گردوں نے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں سندھ رینجرز کے تین بہادر جوان جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے، مگر انہوں نے اپنی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بیشتر حملہ آوروں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا اور ایک بڑے سانحے کو وقوع پذیر ہونے سے روک دیا۔
گرفتار ہونے والے زخمی دہشت گرد نے اس سازش کے کئی پردے چاک کر دیے۔ اس کی شناخت عثمان علی کے نام سے ہوئی، جس کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے بتایا گیا، ایک ایسا گروہ جسے وسیع حلقے بھارت کا پراکسی نیٹ ورک قرار دیتے ہیں۔ اس نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وہ اور اس کے ساتھی حملے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغانستان میں انہیں خودکش حملوں سمیت خصوصی عسکری تربیت دی گئی، جس کے بعد وہ اسلحہ لے کر سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے تمام ساتھی کارروائی کے دوران مارے گئے۔ اس کے اعترافات ان انٹیلی جنس اطلاعات کی توثیق کرتے ہیں جو برسوں سے اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی آبیاری افغان سرزمین پر بیرونی دشمن قوتوں کی سرپرستی میں کی جاتی رہی ہے۔
کراچی کا یہ حملہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور منظم منصوبے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی ذیلی تنظیموں نے اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ متعدد معتبر اطلاعات کے مطابق انہیں بھارت کی مالی معاونت، افغانستان کی لاجسٹک سہولت اور اسرائیل کی جانب سے انٹیلی جنس اور اسلحے کی مبینہ فراہمی حاصل ہے، تاکہ نہ صرف علیحدگی پسندی کو فروغ دیا جائے بلکہ پاکستان اور چین کے مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بچے کھچے عناصر سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں بھی بدامنی پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو بیک وقت متعدد محاذوں پر الجھا دیا جائے۔ یہ تمام سرگرمیاں ایک ایسے مربوط منصوبے کی عکاسی کرتی ہیں جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب وہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ واقعات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی ایک مسلسل اور منظم مہم جاری ہے۔ عالمی برادری اب مزید اس حقیقت سے چشم پوشی کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ سرحد پار دہشت گردی، تربیتی مراکز اور خفیہ معاونت کے یہ نیٹ ورک ایک ایسے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امن، ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے مسلسل کوشاں ہے
۔ ایک خودمختار اور ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کو اپنی سرزمین، اپنی خودمختاری اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا مکمل اور ناقابلِ تردید حق حاصل ہے۔
اس کے باوجود ہر آزمائش کے موقع پر پاکستان کے عوام، اس کی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فولادی عزم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایمان، حب الوطنی اور قربانی کے جذبے سے سرشار یہ قوم اپنے بلند و بالا پہاڑوں سے لے کر اپنے پررونق شہروں تک، وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ تیار کھڑی ہے۔ شہداء کا مقدس لہو قوموں کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اتحاد، استقامت اور عزمِ نو کی جڑوں کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
آج جب پاکستان بین الاقوامی فورمز پر ان مذموم سازشوں کو بے نقاب کر رہا ہے تو وہ عالمی ضمیر کو بھی پکار رہا ہے کہ وہ حقائق کو تسلیم کرے اور دہشت گردی کے اس پورے ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی عالمی کوششوں کا ساتھ دے۔ کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ باطل کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، انجام کار فتح حق، صداقت اور استقامت ہی کا مقدر بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اپنی قوم کے عزم اور اپنے شہداء کی قربانیوں کے طفیل پاکستان ہر طوفان کا مقابلہ کرتا رہے گا، ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا اور اس کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند لہراتا رہے گا۔ آج کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ محفوظ، پرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ثابت ہوں گی۔
