اسلام آباد (آئی پی ایس ) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) چند قومی کرکٹرز کو ایک خصوصی تربیتی پروگرام کے تحت امریکا بھیجنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے تاکہ انہیں مختلف ماحول میں سیکھنے اور اپنی مہارتوں میں مزید نکھار لانے کا بہترین موقع فراہم کیا جا سکے۔قومی ون ڈے و ٹی20 ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اس منفرد پلان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ اس منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، تاہم انتظامی سطح پر اس کے حتمی انتظامات اور بورڈ سے باقاعدہ منظوری کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں مائیک ہیسن نے بتایا کہ کچھ کھلاڑیوں کو امریکا بھیجنے کا منصوبہ زیر غور ہے جہاں انہیں پاور ہٹنگ کے جدید طریقوں اور مختلف تربیتی ماحول سے روشناس کرایا جائے گا کیونکہ امریکا میں پاور ہٹنگ کے حوالے سے خاص مہارت موجود ہے اور ہم اس کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کچھ کھلاڑی طویل المدتی انجریز سے صحت یاب ہو کر واپس آئے ہیں، جبکہ بورڈ بعض دیگر کھلاڑیوں کو بھی مختلف طریقہ کار سیکھنے اور نئی سوچ اپنانے کا موقع دینا چاہتا ہے تاکہ ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
یہ اقدام پاکستان کرکٹ میں فٹنس اور میڈیکل کلچر کو بہتر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت رواں سال برطانیہ میں مقیم فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر جاوید مغل کو پی سی بی کا ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز میڈیسن مقرر کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر جاوید مغل نے حال ہی میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں فٹنس کو پیشہ ورانہ کھیل کا ناقابلِ سمجھوتہ حصہ قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اب تمام کھلاڑیوں کے لیے جدید ٹیسٹنگ اور اسکریننگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
مائیک ہیسن نے اس حوالے سے واضح کیا کہ امریکا بھیجنے کا یہ پروگرام صرف فٹنس تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کی مختلف تکنیکوں اور جدید تربیتی طریقوں سے مکمل طور پر آگاہ کرنا ہے۔ پاکستانی کوچ نے اس منصوبے کو قومی کرکٹ کے لیے ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو نئے مواقع اور مختلف ماحول میں سیکھنے کے تجربات فراہم کرنا مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے بے حد فائدہ مند ثابت ہوگا۔

