تہران (سب نیوز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے ابتدائی معاہدے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ہمارے حق میں ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آجائیں گے جب کہ ایران اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ہمارے مفاد میں ہیں اور امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی بنیادی تشویش صرف یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے جب کہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا۔مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران کے شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ واضح کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کا خواہاں نہیں ہے اور ملک اسی موقف پر قائم ہے۔ایرانی صدر کے مطابق قطر میں موجود ایران کے 6ارب ڈالر کے منجمد فنڈز بھی واپس کیے جائیں گے اور ان رقوم کی واپسی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ماضی میں ایران پر کئی پابندیاں عائد کی تھیں اور بعض سرگرمیوں سے روکنے کی بات کی تھی، تاہم اب وہی حقوق ایرانی عوام کے جائز حقوق کے طور پر تسلیم کیے جا رہے ہیں۔مسعود پزشکیان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات سے سب سے زیادہ ناخوش فریق وہی ہیں کیوں کہ سفارتی پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری صورت حال پر ایران کو شدید تحفظات ہیں اور مذاکرات میں اس مسئلے کو اولین ترجیح دی جائے گی، صہیونی حکومت لبنان میں اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، اسی لیے یہ معاملہ آج کی بات چیت کا مرکزی موضوع ہوگا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات میں لبنان کی صورت حال کے علاوہ ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے مالی اثاثوں کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا، تہران کا مطالبہ ہے کہ بیرون ملک موجود ایرانی فنڈز تک رسائی بحال کی جائے اور ان پر عائد پابندیوں میں نرمی لائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری اجازت ناموں اور لائسنسز کے اجرا کا معاملہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے، تیل کی برآمدات پر عائد رکاوٹوں کو ختم کیا جانا چاہئے تاکہ ملک کی معیشت کو سہارا مل سکے۔

