Wednesday, June 17, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتازہ ترینایران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے، ٹرمپ

ایران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے، ٹرمپ

پیرس(سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی معاہدہ نہیں، اور اگر انہیں حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو امریکا دوبارہ ایران پر بمباری کی طرف جا سکتا ہے۔فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ کوئی بھی امریکی کمپنی ایران میں سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، تاہم ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ اہم پیش رفت کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹیں بلندیوں پر ہیں اور تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ ان کے بقول اگر یہ مفاہمت نہ ہوتی تو پوری دنیا شدید معاشی دبا وکا شکار ہو جاتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور متنازع ڈیم کے معاملے پر بھی بات چیت ہوگی، جبکہ امریکا مصر کے ڈیم منصوبے میں تعاون فراہم کرے گا۔
انہوں نے ایران سے متعلق 300 ارب ڈالر کے فنڈز کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا، حزب اللہ سے نمٹنے کے حوالے سے شامی قیادت سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں فوری طور پر پابندیوں میں نرمی شامل نہیں، البتہ پابندیوں میں ممکنہ نرمی پر بعد میں غور کیا جائے گا۔اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطی میں امن کے قیام کے لیے ہونے والی پیش رفت پر صدر ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔