Tuesday, June 16, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتازہ تریننیتن یاہو کو اوقات یاد دلادی گئی، امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہ رہتا، ڈونلڈ ٹرمپ

نیتن یاہو کو اوقات یاد دلادی گئی، امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہ رہتا، ڈونلڈ ٹرمپ

جنیوا (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے یا امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جی-7 سربراہی اجلاس کے موقعے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے اسرائیل کی بساط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے یا امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا۔گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اسرائیل کی پالیسیوں پر غیر معمولی انداز میں تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نیتن یاہو کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم لبنان کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا کہ لبنان کبھی ایک منظم اور مستحکم ملک تھا لیکن اب اس کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ لبنان اور حزب اللہ کے حوالے سے اسرائیل کے طرز عمل سے خوش نہیں ہیں اور اسرائیل کو اس معاملے میں زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔دریں اثنا مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما اور ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بن یامین نیتن یاہو نے واشنگٹن آ کر اوباما سے ایران کے ساتھ معاہدہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو نے اوباما سے بارہا اپیل کی تھی کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہ کریں تاہم اوباما نے اسرائیل کے مقف کے برخلاف ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اوباما اس معاملے میں اسرائیل کے بجائے ایران کے مقف کے قریب تھے اور اسی وجہ سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ممکن ہوا۔امریکی صدر کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطی کی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیل کے علاقائی کردار سے متعلق عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔