جدہ (آئی پی ایس )سعودی عرب کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں واقع فرسان جزائر عید الاضحی کے دوران ماحولیاتی اور قدرتی سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہے ہیں، جہاں مینگروو جنگلات اور سمندری مناظر سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے فرسان جزائر میں واقع الکندل فاریسٹ اس وقت عید کی تعطیلات کے دوران آنے والے سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ علاقہ مینگروو درختوں کے گھنے جنگلات، پیچیدہ آبی راستوں اور قدرتی حیاتیاتی تنوع کے باعث اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔
الکندل فاریسٹ فرسان پورٹ سے تقریبا 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تنگ چٹانی راستوں سے گزرتے ہوئے سیاح کشادہ آبی گزرگاہوں اور سرسبز مینگروو جنگلات کا دلکش نظارہ کرتے ہیں۔ ان درختوں کی جڑیں نہ صرف ساحلی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ مختلف سمندری حیات اور پرندوں کے لیے محفوظ مسکن بھی فراہم کرتی ہیں۔
سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ خاص طور پر تعطیلات کے دوران ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جہاں مقامی ٹور آپریٹرز کے مطابق کشتیوں کے ذریعے سفر کرنے والے سیاح اکثر کھلے سمندر میں ڈولفن بھی دیکھتے ہیں، جو اس تجربے کو مزید یادگار بنا دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی ریڈ سی اتھارٹی اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ سیاحوں کی رسائی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے اور نازک ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
الکندل فاریسٹ کے علاوہ فرسان جزائر میں دیگر قدرتی مقامات بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں، جن میں ابو شریاح جزیرے کے سفید ریتیلے ساحل، گمہ جزیرے کے حیاتیاتی تنوع اور کشتیوں کے ذریعے ڈولفن دیکھنے کے مواقع شامل ہیں۔
سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کا یہ رجحان ویژن 2030 کے تحت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے کم کرنا اور سیاحت کو ایک اہم معاشی شعبہ بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ اب قدرتی اور ماحولیاتی سیاحت کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پہلے جہاں سعودی عرب آنے والے زائرین کا زیادہ تر فوکس مکہ اور مدینہ تک محدود ہوتا تھا، اب بہتر انفراسٹرکچر اور نئے سیاحتی منصوبوں کے باعث وہ ملک کے دیگر خوبصورت مقامات کا بھی رخ کر رہے ہیں۔
فرسان جزائر کی تاریخی اہمیت بھی کم نہیں۔ مقامی بزرگوں کے مطابق ماضی میں حج کے لیے سفر کرنے والے لوگ انہی ساحلی علاقوں سے کشتیوں کے ذریعے جدہ کا طویل سفر کرتے تھے، جو ایمان، صبر اور امید کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا۔
آج وہی خطہ جدید سیاحت، فطری مناظر اور ماحولیاتی حسن کے امتزاج کے ساتھ ایک نئی پہچان بنا رہا ہے، جہاں عید کے موقع پر آنے والے سیاح قدرتی خوبصورتی اور سمندری حیات کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

