اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر علیم خان کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں مستعفی ہو کر حکومت مخالف بینچوں پر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر علیم خان کے پاس ’خودداری‘ نام کی کوئی چیز ہے تو وہ اپنے بیان کے ساتھ استعفیٰ دیں اور حکومت مخالف بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کریں۔
وزیر دفاع نے علیم خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’حوصلہ کریں، صرف بیان نہ دیں۔‘ انہوں نے راوی کنارے رہنے والے متاثرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو نقصان پہنچا ہے وہ گزشتہ ایک سال سے اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس آنے والا ہے، اس وقت دیکھا جائے گا کہ یہ صرف بیانات اور دعوے ہیں یا کوئی شخص استعفیٰ دے کر راوی کنارے رہنے والے متاثرین کے ساتھ عملی طور پر اظہار یکجہتی بھی کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ سیاست کبھی کبھی شرم اور حیا کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ خواجہ آصف کا یہ ردعمل استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ علیم خان کے ایک حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے آزاد کشمیر کے ووٹروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اس علاقے میں جتنی بھی محرومیاں ہیں، ان محرومیوں کی ذمہ دار جو بھی پارٹیاں ہیں، میرے کشمیری بہن بھائیوں نے آج یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ دوبارہ ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ بار بار آتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں اور اس کے بعد یہ غائب ہو جاتے ہیں۔ 5 سال حکومت کے مزے لیتے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ دھوکہ دینے آپ کے پاس آ جاتے ہیں۔ ان سے پوچھیں کہ یہ جو آپ نعرے لگاتے ہیں ، ان نعروں کے تکمیل پچھلے 30 سال میں کیوں نہیں کی؟ انہوں نے وہ محرومیاں دور کیوں نہیں کیں؟ نوجوانوں کو روزگار کیوں نہیں ملا؟ صحت کی بنیادی سہولتیں کیوں نہیں آئیں؟ ہمارے بچے، بچیاں جو اسکول سے باہر ہیں وہ کیوں اسکول سے باہر ہیں؟ وہاں پہ انفراسٹرکچر ڈویلپ کیوں نہیں ہو سکا؟ ان ساری باتوں کا کوئی جواب ہے؟ اور اگر آپ کام نہیں کر سکےتو پھر آج آپ کس منہ سے دوبارہ اووٹ مانگنے آ رہے ہیں؟
علیم خان نے کہا کہ صرف ٹائم بدلا ہے۔ نہ شکلیں بدلیں ہیں اور نہ وعدے بدلے۔ وہی شکلیں، وہی وعدے ۔صرف پانچ، پانچ سال گزرتے گئے۔کوئی 25 سال بعد واپس آ رہا ہے، کوئی 30 سال بعد واپس آ رہا ہے اور کوئی 5 سال بعد واپس آ رہا ہے، سب وعدے وہی ہیں جو پہلے وعدے کرتے تھے آج بھی وہی کرتے ہیں۔
