اسلام آباد(سب نیوز) ترک تعاون و رابطہ ایجنسی (ٹیکا)نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل(پی اے آر سی )کے تحت کام کرنے والے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر(این اے آر سی )کے ہنی بی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں پاکستان کا پہلا جدید شہد کی مکھیوں کے موم سے ویکس فانڈیشن شیٹس تیار کرنے کا یونٹ قائم کر دیا ہے۔یہ جدید سہولت پاکستان کے شہد کی مکھی بانی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں روایتی اور دستی طریقہ کار کے ذریعے تیار کی جانے والی ویکس فانڈیشنز اکثر غیر معیاری اور غیر صحت بخش ہوتی ہیں، جس کے باعث شہد کی پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مکھیوں کی کالونیوں میں بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ترک ٹیکنالوجی سے قائم کیے گئے اس جدید یونٹ کی پیداواری صلاحیت 450 ویکس فانڈیشن شیٹس فی گھنٹہ ہے، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی جدید سہولت ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہد کے کاشتکاروں کو معیاری، صحت بخش اور یکساں معیار کی ویکس فانڈیشنز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ شہد کی پیداوار میں اضافہ، بیماریوں کے خطرات میں کمی اور پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے۔اس منصوبے کے ذریعے ترکی کی جدید شہد کی مکھی بانی ٹیکنالوجی اور تکنیکی مہارت بھی پاکستان کو منتقل کی گئی ہے۔ گزشتہ برسوں میں ترک طرز کے چھتوںکے تعارف کے بعد اب جدید ترک طرز کے ویکس فانڈیشن پروڈکشن سسٹم کو بھی پاکستان کے شہد کی مکھی بانی کے شعبے میں متعارف کرا دیا گیا ہے۔
سن 2017 سے ٹیکا اور این اے آر سی کے درمیان تربیتی پروگرامز، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار بڑھانے کے مختلف منصوبوں کے ذریعے قریبی تعاون جاری ہے، جس کا مقصد پاکستان میں شہد کی مکھی بانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ منصوبہ شہد کی مکھیوں کے اس اہم کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے جو صرف شہد کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ زرعی پیداوار، حیاتیاتی تنوع، پولینیشن اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں پائیدار دیہی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے گا۔عالمی یومِ شہد کی مکھی کے موقع پر، جو ہر سال 20 مئی کو منایا جاتا ہے، ٹیکا نے اس منصوبے اور پاکستان و ترکی کے درمیان شہد کی مکھی بانی کے شعبے میں جاری تعاون پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی جاری کی ہے۔
