Monday, May 18, 2026
ہومپاکستاناکادمی ادبیات کے زیر اہتمام فارسی رزمیہ شاعر حکیم فردوسی کی یاد میںادبی کانفرنس کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام فارسی رزمیہ شاعر حکیم فردوسی کی یاد میںادبی کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد (آئی پی ایس ) اکادمی ادبیات پاکستان اور خانہ فرہنگِ ایران راولپنڈی کے اشتراک سے فارسی زبان کے دن اور عظیم فارسی رزمیہ شاعر حکیم فردوسی کی یاد میں اسلام آباد میں ایک پروقار علمی، ادبی اور ثقافتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی، ادبی اور ثقافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، دانشوروں، شعرا اور اہلِ علم نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کی صدارت ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کی، جبکہ تقریب میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، کلچرل قونصلر سفارتِ ایران اسلام آباد مجید مشکی، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگِ ایران ڈاکٹر مہدی طاہری، مقتدرہ قومی زبان کے ایم ڈی ڈاکٹر سلیم مظہر، ڈاکٹر عنبر یاسمین، ڈاکٹر مظفر علی کشمیری سمیت پاکستان کے ادبی، تعلیمی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔

تقریب کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگِ ایران ڈاکٹر مہدی طاہری نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اس اہم علمی و ادبی کانفرنس کے انعقاد میں اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے ادارے بالخصوص چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کا شکریہ ادا کیا۔کلچرل قونصلر مجید مشکی نے اپنے خطاب میں فارسی زبان و ادب کے فروغ، حکیم فردوسی کی ادبی خدمات اور برصغیر کی تہذیبی روایت پر ان کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک عظیم اور قدیم تہذیبی و ثقافتی ورثے کا امین ملک ہے، جس کی فکری، لسانی اور ادبی شناخت کی تشکیل میں حکیم فردوسی اور ان کی شہر آفاق تصنیف شاہنامہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فردوسی نے فارسی زبان کو نہ صرف دوام بخشا بلکہ اسے بلند ادبی وقار اور تہذیبی عظمت سے ہمکنار کیا، جس کے نتیجے میں ایرانی تمدن کو ایک باوقار اور مستحکم شناخت حاصل ہوئی۔مقتدرہ قومی زبان کے ایم ڈی ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ برصغیر کی زبان و ادب فارسی زبان و ادب کا گہرا مقروض ہے، کیونکہ فارسی نے نہ صرف برصغیر کی فکری اور تہذیبی روایت کو جِلا بخشی بلکہ یہاں کی مقامی زبانوں اور ادبی روایتوں کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم فردوسی نے زندگی کے تقریبا ہر شعبے اور انسانی فکر کے ہر پہلو کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کے کلام میں حمدِ باری تعالی سے لے کر نعتِ رسولِ کریم ۖ تک روحانیت، اخلاقیات، حکمت اور انسانی اقدار کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔

کانفرنس کے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ حکیم فردوسی نہ صرف فارسی زبان کے عظیم شاعر ہیں بلکہ وہ مشرقی تہذیب، فکری روایت اور ادبی ورثے کے ایک روشن استعارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فردوسی نے ایسے دور میں فارسی زبان کو نئی زندگی بخشی جب عربی زبان و ادب دیگر زبانوں پر غالب آ رہا تھا۔ انہوں نے اپنی لازوال تخلیق شاہنامہ کے ذریعے نہ صرف فارسی زبان کی حفاظت کی بلکہ اسے نئی فکری، ادبی اور تہذیبی توانائی بھی عطا کی۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ہمیشہ زبانوں، تہذیبوں اور علمی روایتوں کے مابین مکالمے اور ادبی روابط کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے، اور فارسی زبان و ادب کے ساتھ برصغیر کے تاریخی و تہذیبی تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب، صوفیانہ روایت اور برصغیر کی تہذیبی شناخت پر فارسی ادب کے اثرات انتہائی گہرے اور ناقابلِ فراموش ہیں، اور ان اثرات کے بغیر ہماری ادبی تاریخ مکمل طور پر سمجھی ہی نہیں جا سکتی۔انہوں نے موجودہ عالمی حالات اور حالیہ بین الاقوامی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے ان شہید بچوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مشکل حالات کے باوجود تعلیم، عزم اور قومی حوصلے کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تمام مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا اور راولپنڈی و اسلام آباد کی ادبی برادری کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔تقریب سے ڈاکٹر مظفر علی کشمیری، ڈاکٹر عنبر یاسمین اور دیگر مقررین نے بھی فارسی زبان، حکیم فردوسی اور فارسی ادب کے مختلف پہلوں پر مقالے پیش کیے۔تقریب کے اختتام پر مجید مشکی اور ڈاکٹر مہدی طاہری نے ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈاکٹر سلیم مظہر کو کتب پر مشتمل یادگاری تحائف پیش کیے، جبکہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی خانہ فرہنگِ ایران کے معزز مہمانوں کو اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات پر مشتمل تحائف پیش کیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔